امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 27 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 27

جہاں خدائے واحد کی عبادت کی جائے وہ مسجد ہے۔اسی لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو جو موحد تھے مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دی تھی۔چیف جسٹس : عیسائی کتب میں کہیں مسجد کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔مجیب الرحمن : ہمارے پاس تو سب تراجم ہی پہنچے ہیں عین ممکن ہے اصل عبرانی میں یہ لفظ موجود ہو۔ایک موقع پر میں نے اپنے استدلال کی تائید میں تفسیر المنار کا حوالہ پیش کیا جس میں لکھا تھا کہ مسجد کا لفظ ان لوگوں کے معاہد کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے جو خالص بت پرست ہیں۔اس پر حسب ذیل مکالمہ عدالت میں ہوا۔جسٹس قاسمی : کیا عدالت ان علماء کے حوالوں کی پابند ہے۔مجیب الرحمن : یہ درست ہے کہ عدالت ان کی پابند نہیں لیکن یہ سب کتب احمد یہ مسلک کے وجود میں آنے سے قبل لکھی گئی ہیں اور ان کا قول اس لئے زیادہ معتبر ہے کہ وہ فریق نہیں تھے اور آزادانہ علمی رائے رکھتے تھے۔یہ تو درست ہے کہ عدالت ان کی رائے کی پابند نہیں تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ میری رائے کی تائید میں متقدمین اور متاخرین میں سے کوئی سند موجود نہیں۔گویا قدم قدم پر یہ نظارہ دیکھا گیا کہ عدالت نے کہیں قرآن کی آیت کو ہی منسوخ قرار دے دیا اور کہیں اپنے بزرگوں کے بارہ میں کہہ دیا کہ ہم ان حوالوں کے پابند نہیں۔گویا پابندی نہ قرآن کی ہورہی تھی نہ سنت کی۔صرف ازمنہ وسطی کی فقہ اور فرسودہ روایات کی ہورہی تھی۔ایک موقع پر تبلیغ کے موضوع پر بات ہورہی تھی تو یہ مکالمہ ہوا: جسٹس : آپ کی تبلیغ سے دوسرے لوگوں کو جو resentment ہوتی ہے اس کا کیا کیہ 27