امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 320 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 320

ایک تفصیلی تبصرہ میری Emor at the Apex نامی کتاب میں شائع ہو چکا ہے۔1974 ء میں آئینی ترمیم کے بعد ڈیرہ غازیخان والی مسجد کے معاملہ پر لاہور ہائی کورٹ نے ایک متفقہ فیصلہ ہمارے حق میں دیا اور یہ قرار دیا کہ اذان، نماز، مسجد، درود، سلام، رکوع و سجود احمدیوں کے بھی شعائر ہیں جن پر گزشتہ ایک سو سال سے عمل کیا جا رہا ہے۔لہذا دوسری آئینی ترمیم کے ذریعہ غیر مسلم قرار دئے جانے کے با وجو د احمدیوں کو ان شعائر سے روکا نہیں جا سکتا۔یہ فیصلہ جسٹس صمدانی اور جسٹس شیخ آفتاب حسین پر مشتمل بینچ نے صادر کیا۔جو 113 PLD 1978LAH کے طور پر شائع ہوا۔اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا کسی کو حوصلہ نہ ہوا اور یوں یہ فیصلہ قطعی اور ناطق ہو گیا۔اس کا حل یہ نکالا گیا کہ جنرل ضیاء الحق کی مارشل لاء حکومت کے دران آرڈینینس جاری کر کے اس کے ذریعہ وہی شعائر ہمارے لئے ممنوع قرار دئے گئے جو 1978 ء میں ہائی کورٹ کے مذکورہ بالا فیصلہ میں ہماری مذہبی شعائر تسلیم کئے جاچکے تھے۔اور یہ آرڈینینس وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا تو وہی شیخ آفتاب حسین وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس تھے۔تاریخ اس بات پر گواہ رہے گی کہ آرڈینینس کے آئینی اور شرعی جواز کے بارہ میں ہماری اعلیٰ عدالتوں کا فیصلہ اختلافی ہی رہا۔وکلاء اور قانون دانوں کے لئے یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ شریعت کورٹ کے فیصلہ پر بھی چیف جسٹس کا اختلاف ظاہر و باہر تھا مگر ریکارڈ پر نہیں لایا گیا۔اور ظہیر الدین والے کیس میں بھی سپریم کورٹ کے سینیئر جج نے باقی جوں سے اختلاف کیا۔گویا دونوں صورتوں میں ہی اختلاف موجودرہا۔لہذا آئندہ کسی مناسب موقع پر یا کسی دیگر مقدمہ میں، اس معاملہ کو دوبارہ زیر غور لانے کیلئے کافی وجوہ ، قوی دلائل اور گنجائش ہمیشہ موجودرہے گی۔ہم مایوس ہرگز نہیں۔معاشرے کا جبر اور مصلحتوں کا دباؤ ہمیشہ نہیں رہے گا۔آج نہیں تو کل دلیل غالب آئے گی، انشاء اللہ۔وَاللهُ الْمُسْتَعَان 320