امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 314
اس سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ کیونکہ وہ مرزا صاحب کو بہتر جانتے تھے ان کی رائے زیادہ وقیع ہے مگر عدالت کا یہ استدلال اور استنباط بھی مذہب کی تاریخ کو پیش نظر نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوا جو غلط ہے مذاہب عالم کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا ما مورگز را ہو جس کو اس کے اپنے قریبی رشتہ داروں نے جھوٹا سمجھ کر ٹھکرانہ دیا ہو۔مگر ہر چند کہ مامورین سب سے پہلے انذر عشیرتک الاقربین کے مصداق اپنے رشتہ داروں کو ہی پیغام حق پہنچاتے ہیں۔ان کا انکار کرنے والوں میں بھی ان کے رشتے دار ہی پیش پیش ہوتے ہیں۔رشتہ داروں کی موافقت یا مخالفت کسی بھی مدعی ماموریت کی سچائی کو پرکھنے کا کوئی معیار نہیں اور یہ ایک منفی انداز فکر ہے۔ورنہ حضرت نوح علیہ السلام کا نافرمان بیٹا بھی اُن کے دعویٰ کا مکذب تھا۔اور ابولہب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں میں سے ہی تھا مگر ہر ذی ہوش آدمی رسول کریم کے بارے میں ابولہب اور ابو جہل کی شہادت کی بجائے ابوبکر کی شہادت کو ہی زیادہ وزن دے گا۔عدالت نے ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے مرزا صاحب کے سوانحی لٹریچر سے یہ بات تو اخذ کر لی کہ مرزا صاحب کے بعض رشتہ دار ان کے دعوئی کے مکذب تھے۔مگر اس بات پر غور نہ کیا کہ حکیم نورالدین بھیروی جن کے علم وفضل کی دھوم پورے ہندوستان اور حرمین شریفین تک تھی۔اور جن کے علم وفضل کا یہ عالم تھا کہ نواب بہاولپور ان کو بہاولپور میں قیام کے عوض سینکڑوں ایکڑ اراضی دینے کو تیار تھے۔انہوں نے مرزا صاحب کے دعوی کوعلی وجہ البصیرت صحیح پایا اور بدل و جان تسلیم کیا۔مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری جن کی اسلامی خدمات کا یہ عالم تھا کہ ان کے بارے میں لوگ یہ گمان کرنے لگے تھے کہ شاید وہی صدی کے مجدد ہوں گے۔انہوں نے مرزا صاحب کے دعوئی کو سچا سمجھا۔صاحبزادہ عبداللطیف شہید کا بل جن کے علم وفضل کا چرچا پورے افغانستان میں تھا اور ہزاروں لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔انہوں نے آپ کو قبول کیا اور اس راہ میں جان تک سے دریغ نہ کیا مولوی عبدالکریم صاحب 314