امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 312
عیسائیت کے خلاف جاری رکھا۔اور مرزا صاحب کی وفات پر تبصرہ نگاروں نے اس بناء پر انہیں ( اسلام کا فتح نصیب جرنیل ) قرارد یا اور یہ تسلیم کیا کہ مرزا صاحب کا لٹریچر جو سیحیوں اور آریوں کے مقابل پر اُن سے ظہور میں آیا ہے قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے، اور یہ بھی تسلیم کیا کہ اس مدافعت نے صرف عیسائی مذہب کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑا دیئے جو سلطنت کے زیر سایہ ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا۔بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا“۔اور جہاں تک تبلیغ کے جہاد کا تعلق ہے جماعت احمدیہ کے معاند مفکر احرار چوہدری افضل حق کو بھی مرزا صاحب کے بارے میں تسلیم کرنا پڑا کہ :۔ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا اور ایک مختصرسی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا اور اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کے تمام اشاعتی فرقوں کے لئے نمونہ ہے۔جہاد کے بارے میں مرزا صاحب نے جو کچھ لکھا وہ قرآن وسنت کے عین مطابق تھا اور جہاں تک جہاد کی فرضیت کا سوال ہے مرزا صاحب کے مسلک میں کسی کلام کی گنجائش نہیں اور اگر عدالت اس مسئلے کو تفصیلی طور پر زیر بحث لاتی تو قرآن حکیم کی آیات اور اسوۂ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات واضح کی جاتی کہ جہاد کی شرائط کیا ہیں اور کب بصورت قتال جہاد فرض ہوتا ہے۔بہر صورت یہ سوال بھی مسئلہ زیر غور سے غیر متعلق تھا۔اور فیصلے کا یہ حصہ یعنی صفحہ نمبر 192191 اور نمبر 110 سے 114 تک فیصلے میں سے حذف کئے جانے کے لائق ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی طعن کیا کہ حضرت مرزا صاحب نے حکومت برطانیہ کی اپنی تحریرات میں تعریف کی ہے۔فیصلے کا یہ حصہ بھی معاملہ زیر غور سے غیر متعلق تھا۔مگر مرزا صاحب کی تحریرات کا اُس دور کے حالات کی روشنی میں جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ جب سکھوں 312