امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 310
نوافل کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں۔ایسے اوقات بھی ہیں جن میں نماز پڑھنا ممنوع ہے۔لہذا نماز کا حکم بھی وضو ، طہارت ، وقت اور دیگر شرائط کی پابندی کے ساتھ ہے۔روزہ ماہِ رمضان میں فرض ہے۔دیگر ایام میں رکھا بھی جائے تو نفل ہے۔روزے کی شرائط میں بھی سحری اور افطاری کے اوقات کی پابندی لازمی ہے۔زکوۃ اپنی شرائط کے ساتھ فرض ہے۔ان شرائط کے بغیر نہیں۔حج کو دیکھئے وہی ارکان اور مناسک حج ایام حج کے علاوہ ادا کئے جائیں تو وہ عمرہ ہوتے ہیں اور اُن سے حج کا فرض ادا نہیں ہوتا۔حج کی بھی شرائط ہیں جن کے بغیر حج فرض نہیں ہوتا۔یہی کیفیت جہاد کی بھی ہے۔جماعت احمد یہ اس بات کی قائل ہے کہ جہاد خواہ وہ تبلیغ کی صورت میں ہو یا تربیت نفس یا قتال کی صورت میں کسی نہ کسی رنگ میں ہر وقت فرض رہتا ہے اور جماعت احمدیہ نے ہمیشہ اس فرض کو فرض جانا اور پورا کیا۔تیسری قسم کا جہاد جسے جہادِ اصغر یا قتال کہا گیا اس کی شرائط برطانوی ہند میں موجود نہ تھیں اور یہ بات جماعت احمد یہ یا مرزا صاحب کے قول پر موقوف نہیں۔جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے مرزا صاحب کے دعوے سے پہلے یہ بات طے ہو چکی تھی اور ہندوستان کے ہر طبقہ فکر کے علماء مجتہدین حتی کہ مکہ اور مدینہ کے علماء ہندوستان کے دارالسلام ہونے کا فتویٰ دے چکے تھے اور اس بات کو عدالت نے بھی فیصلہ کے صفحہ 148 پر تسلیم کیا ہے۔عدالت کا یہ کہنا غلط ہے کہ جہاد کی عدم فرضیت کے بارے میں اکا دُکا علماء کے فتوے تھے۔امر 664 واقعہ یہ ہے کہ حضرت سید احمد بریلوی ، مولانا محمد اسماعیل شہید ، نواب صدیق حسن خان، مولا نا محمد حسین بٹالوی، شیعہ مجتہد السید علی الحائری، شیخ الہند علامہ نذیرحسین دہلوی ، مولانا احمد رضا خان بریلوی مولوی عبدالحی لکھنوی، علامہ شبلی نعمانی اور فقیہان مکہ میں سے جمال الدین بن عبداللہ حسین ابن ابراہیم مالکی مفتی مکه، احمد بن زینی شافعی مفتی مکہ شمس العلماء مولوی 310