امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 306
سکتے کیونکہ اس کی تعلیم اتم اور اکمل ہے اور وہ توریت کی طرح کسی انجیل کا محتاج نہیں۔(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 155۔حقیقۃ الوحی صفحہ 151) لیکن اس دعوئی فضلیت کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عالی منصب سے مرزا صاحب انکاری نہیں ہیں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:۔اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت با ہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جو ہر کے دوٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحری اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی بار یک امتیاز ہے۔(روحانی خزائن جلد اوّل صفحه 593 براهين احمدیه حصه چهارم صفحه 499 حاشیه در حاشیه) نیز فرمایا:۔موسیٰ کے سلسلے میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہم نام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا“۔پھر فرماتے ہیں:۔(روحانی خزائن جلد 19 صفحه 187 کشتی نوح صفحه 16) ” ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانتیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے خلاف ہو“۔(روحانی خزائن جلد14 صفحہ 28۔ایام الصلح سرورق نمبر2 ) الغرض یہ اشکال بھی اس لئے پیدا ہوا کہ مسیح موعود اور امام مہدی کے عقیدہ کے بارے میں قرآن وحدیث اور اسلامی لٹریچر اور مرزا صاحب کی تحریرات عدالت کے پیش نظر نہ تھیں اور سائلان کو اس امر کا موقعہ فراہم نہ کیا گیا کہ وہ ایک جامع تصویر عدالت کے سامنے 306