امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 304
کے دعوی کو تسلیم نہیں کرتے ان کو یہ اختیار تو ہے کہ وہ اس دعوی کو تسلیم نہ کریں مگر اس بات کا کوئی مجاز نہیں کہ قرآن وحدیث اور ائمہ سلف نے جو مقام آنے والے کا متعین کیا ہے اس کو نظر انداز کر دے۔جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ مرزا صاحب نے حضرت مسیح سے افضلیت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ بھی دراصل اپنی فضیلت نہیں بلکہ سلسلہ محمدیہ کی سلسلۂ موسویہ پر فضیلت کا ذکر ہے۔کیونکہ مرزا صاحب حقیقت الوحی صفحہ 150 پر لکھتے ہیں:۔مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے میں خوب جانتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے ان لوگوں کو گوارا نہ ہوں گے جن کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت پرستش تک پہنچ گئی مگر میں ان کی پرواہ نہیں کرتا۔میں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں“۔غرضیکہ مسیح علیہ السلام پر مرزا صاحب کی فضلیت کے دعوی کا سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کی روشنی میں ہی سمجھا جا سکتا ہے اور یہ ضروری ہے کہ قرآنی تعلیمات اور حضور کے ارشادات کے پیش نظر حضرت مسیح علیہ السلام اور آنے والے مسیح موعود کے حقیقی مقام کو ذہن میں متحضر رکھا جائے۔عیسائی دنیا نے حضرت مسیح علیہ السلام کو الوہیت کے رنگ میں پیش کر رکھا ہے۔اور ان کی خدائی کے چرچے کئے جا رہے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو کم دکھانے بلکہ توہین کے ارتکاب میں عیسائی دنیا دن رات کوشان ہے۔اللہ تعالیٰ کی غیرت نے یہ صورت حال برداشت نہ کی اور مسیح کی خدائی کو باطل کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ایک ایسے شخص کو مسیح پر فضیلت بخش دی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چاکر اور غلام ہے۔چنانچہ مرزا صاحب حقیقت 304