امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 25
نماز بھی نہ پڑھو۔اس بات کے کتنے وسیع اثرات ظاہر ہورہے ہیں۔اسی لئے ہمارا کہنا ہے کہ یہ قانون معقولیت کے دائرہ سے باہر ہے۔اس موقع پر جسٹس قاسمی صاحب نے سوال کیا کہ صحابہ کے علاوہ کسی کے لئے رضی اللہ عنہ کے استعمال کی مثال دیں۔جب یہ مثالیں سورۃ توبہ کی آیت 100 کی روشنی میں پیش کیں تو انہوں نے ایک اور سوال داغ دیا کہ آپ لوگ تو Declared non Muslim ہوکر یہ اصطلاح استعمال کرتے ہیں اس لئے کوئی ایسی مثال دیں کہ غیر مسلم کے لئے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہوں۔خاکسار نے فی البدیہ عرض کیا کہ حضرت امام حسین کے بارہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کریں گے یا نہیں؟ وہاں شیعہ حضرات بھی موجود تھے، قاسمی صاحب نے کہا بالکل ان کے لئے رضی اللہ عنہ استعمال ہوگا۔خاکسار نے عرض کیا کہ آپ کو علم ہے وہ اپنے دور کے Declarednon Muslim تھے اور جنہیں اقتدار وقت نے غیر مسلم قرار دے رکھا تھا۔ایک اور موقعہ پر خاکسار قرآن کریم کے حوالے سے بیان کر رہا تھا کہ قرآن کریم نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے معابد کیلئے مسجد کا لفظ استعمال کیا ہے۔اور اس ضمن میں سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 2 کا حوالہ دیا اور یہ بتایا کہ اس آیت میں بیت المقدس کو بھی مسجد کہا گیا اور عدالت کے روبرو ایسے حوالے پیش کیے کہ بیت المقدس کو Solomants Temple کہا جاتا تھا اور اس آیت کے نزول کے وقت نہ مسجد حرام مسجد تھی، نہ مسجد اقصی مسجد تھی۔مسجد حرام میں تو 365 بتوں کی پرستش ہوتی تھی اور وہ بت خانہ بنا ہوا تھا اور مسجد اقصیٰ تو یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہ تھی۔اس مرحلہ پر ایک دلچسپ مکالمہ جسٹس غلام علی اور خاکسار کے درمیان ہوا۔جسٹس غلام علی : قبل از اسلام کے لوگ بھی تو مسلمان تھے۔مجیب الرحمن : یہ تو ایک اور بحث نکل آئے گی۔اس کا مطلب تو پھر یہ بھی ہوگا کہ یہودی بھی 25