امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 298 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 298

ہے۔خواہ اس اقرار کے ساتھ اعتقاد موجود ہو یا نہ ہوا اور قرآن حکیم کی آیت قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا ، کا یہی مقصود ہے۔دوسرا اسلام وہ ہوتا ہے جو فوق الایمان ہے اور وہ اقرار کے علاوہ دلی اعتقاد عملی وفا اور خدا تعالیٰ کی تمام قضاء وقدر کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کا نام ہے۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ان کے اس قول میں مذکور ہے۔اذقــال لــه ربــه اسـلـم قـال اسلمت لرب العالمین۔اسی بات کو حضرت شاہ ولی اللہ حجتہ البالغہ میں بیان فرماتے ہیں کہ:۔اصل ایمان میں سے یہ ہے کہ جو شخص لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہہ دے تو اس کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی نہ کر۔ہم اس کو کسی گناہ کی وجہ سے کا فرقرار نہیں دیں گے اور نہ اُسے اسلام سے خارج کریں گے۔(حجة الله البالغه مترجم جز اول صفحه 223) یہ بات اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور کرتے ہیں کہ الاسلام عشرة اسهم قد خاب من لاسهـم لـه شهـادة ان لاالـه الا الله وهي الملة - (كنز العمال جلد 1 صفحہ 9) یعنی اسلام کے دس حصے ہیں جس شخص کو ایک حصہ بھی نہ ملا وہ تباہ ہو گیا اور پہلا حصہ یہ ہے کہ وہ لَا إِله إِلَّا اللہ کی گواہی دے اور پھر فرمایا۔وَهِيَ الْمِلَّة۔یہی ملت ہے۔یعنی اتنے اقرار سے وہ ملت میں داخل ہو جاتا ہے گویا اس سے بعد کی باتیں ایمان کے مدارج سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ جو آئے دن مختلف فرقے ایک دوسرے کے بارہ میں کفر کے فتوے صادر کرتے ہیں تو ان کا مفہوم بھی یہی ہوتا ہے کہ جس کو کافر قرار دیا جا رہا ہے اسے ایمان کے 298