امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 296
اور اگر آرڈنینس کے جواز و بطلان کا مدار اس اصول پر ہو جو عدالت نے قائم کیا ہے تو پھر اس سرزمین پاک میں خدا کی توحید اور اس کے نام کی کبریائی کی اذانیں نہیں گونجیں گی۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت بلند نہیں ہوگی اور حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کی آوازیں بھی سنائی نہ دیں گی۔چونکہ ہر فرقہ اس وجہ سے اذان سے محروم ٹھہرے گا کہ وہ دوسروں کو اور دوسرے اُسے کافر قرار دیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ احمدیوں کے اُمتِ مسلمہ سے خارج ہونے کا سوال غیر متعلق اور غیر ضروری تھا۔اس سوال کو اپنے فیصلے میں زیر غور لا کر عدالت نے احمدیوں کے خلاف ایک غلط اور متعصبانہ اعتراض کی اشاعت و ترویج میں جماعت احمدیہ کے معاندین کے مقاصد کو آگے بڑھایا ہے۔مگر یہ اعتراض خود اسلامی تعلیمات قرآنی احکام ارشادات رسول اور مسائل دینیہ کے علاوہ تاریخی حقائق و واقعات سے عدم واقفیت اور قلت تد بر کا نتیجہ ہیں۔یہ کسی طویل بحث کا موقعہ نہیں ہے اور نہ ہی مختصر درخواست مکمل حوالہ جات کی متحمل ہو سکتی ہے مگر بات نہایت آسان اور سہل ہے صرف تھوڑے سے تدبر اور مطالعے اور تاریخی واقعات کو اپنے صحیح پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جہاں تک اس سوال کے علمی پہلو کا تعلق ہے لفظ ملت اور لفظ امت کا تفصیلی مطالعہ ساری ذہنی الجھن کو بآسانی رفع کرسکتا ہے۔خود عدالت کے فیصلے میں صفحہ 125 سے 130 تک لفظ اُمت کے مختلف معانی اور استعمال زیر بحث آئے ہیں۔اور جیسا کہ فیصلے کے صفحہ 126 میں درج ہے۔امت کے معنی لوگ اور افراد، اصول، دور یا زمانہ، ہادی، راہنما، قوم، ایک ہی نبی یا مذہب کے پیروکار۔یہ بھی معنی لغت میں مذکور ہیں۔اور امام راغب کے قول کے مطابق امت کے معانی قوم اور جماعت کے ہیں۔بالخصوص جب کہ کوئی جماعت مشترک معاملات سے پہچانی جائے جس میں نظریاتی ، معاشرتی ، ثقافتی ، اقتصادی، سیاسی اور مذہبی مقاصد کا اشتراک شامل ہے۔296