امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 294
اسی طرح سے غیر مقلدین کے بارہ میں مقلدین کے فتاویٰ بھی بڑے واضح اور دوٹوک ہیں اور اُن کے نزدیک اور تقلید کو حرام اور مقلدین کو مشرک کہنے والا شرعاً کافر بلکہ مرتد ہوا۔اور حکام اہل اسلام کو لازم ہے کہ اُسے قتل کریں اور عذر داری اس کی بائیں وجہ کہ مجھ کو اس کا علم نہیں تھا شرعاً قابل پذیرائی نہیں۔بلکہ بعد تو بہ کے بھی اس کو مارنا لازم ہے۔یعنی اگر چہ تو بہ کرنے سے مسلمان ہو جاتا ہے لیکن ایسے شخص کے واسطے شرعاً یہی سزا ہے کہ اس کو حکام اہل اسلام قتل کر ڈالیں۔یعنی حد زنا تو بہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی اسی طرح یہ حد بھی تائب ہونے سے دور نہیں ہوتی۔اور علماء اور مفتیانِ وقت پر لازم ہے کہ بجر دمسموع ہونے ایسے امر کے اس کے کفر اور ارتداد کے فتوی دینے میں تردد نہ کریں۔ور نہ زمرہ مرتدین میں یہ بھی داخل ہوں گئے۔انتظام المساجد باخراج اهل الفتن والمكاسد والمفاسد صفحه 5 تا صفحه 7 مطبوعه جعفری پریس لاهور مصنفه مولوی محمد بن مولوی عبدالقادر لدھیانوی) ”غیر مقلدین تو مسلمان ہی نہیں ہیں، بلکہ مرتد ہیں۔۔۔یہ غیر مقلدین۔۔۔۔۔۔وہابی نجدی خود اپنے ہی پیغمبروں کے قول کے مطابق اسلام سے خارج ہیں۔پس ان کے پیچھے نماز پڑھنا قطعاً حرام ہے۔الغرض یہ غیر مقلدین ملحدین کسی طرح مسلمان نہیں ہو سکتے“۔(ارتداد الوهابيين في جواب اهل الذكره تکفیر صفحه 26 تا30 مرتبه ابو المحامد احمد علی مطبوعه روز بازار الیکٹرک سٹیم پریس امرتسر) صرف تکفیر اور ارتداد یا اخراج از اسلام کا ہی سوال نہیں جنازہ اور نکاح کے معاملات میں بھی کوئی دو فرقے آپس میں راضی نہیں۔مولانا احمد رضا خان کے نزدیک تو دیو بندیوں 294