امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 24 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 24

بحث کے دوران چیف جسٹس نے یہ سوال اُٹھایا کہ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد کفار کو حج سے روک دیا گیا تھا اور چیف جسٹس نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کسی تفسیر نے اس سوال کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی کہ سورۃ توبہ کی آیت میں مشرکین کو حج سے روک دینے اور سورۃ المائدہ کی آیت میں مشرکین کو حج سے نہ روکنے کی جو ہدایت ہے اس سے نسخ واقع ہوا یا نہیں اور چیف جسٹس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس پر تحقیق کی جائے۔فریق مخالف نے تو کوئی تحقیق پیش نہ کی ، ہم نے اس پر اپنی تحقیق کی تھی وہ پیش کی اور بتایا کہ بے شک بعض لوگوں نے یہ نسخ مانا ہے اور امام سیوطی نے درمنثور میں یہ لکھا ہے کہ آیت کا صرف ایک حصہ وَلَا امّینَ البَيْتَ الحَرام کا ٹکڑا منسوخ ہوا ہے۔اور متعدد ایسی روایات پیش کیں جن سے اس قرآنی آیت کے منسوخ نہ ہونے کا مضمون واضح ہوتا ہے۔لیکن ہمارا کہنا یہ تھا کہ ناسخ و منسوخ کی طویل بحث کے باوجود ہمارا استنباط باطل نہیں ہوتا۔کیونکہ جس حصہ پر ہم نے بنیادرکھی ہے اس کو ان لوگوں نے بھی منسوخ نہیں مانا جو نسخ کے قائل ہیں۔دوران بحث رَضِيَ اللهُ عَنْہ کے لفظ پر بحث جاری تھی کہ جسٹس غلام علی نے جن کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اعتراض اٹھایا اور یہ مکالمہ ہوا۔جسٹس غلام علی: بی تو دعائیہ جملہ ہے یہ توکسی کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے۔مجیب الرحمن : میں تو یہی عرض کرتا ہوں کہ مجھے دعا کرنے دیں۔ماننا تو خدا کے اختیار میں ہے۔مجھے اپنے بزرگوں کیلئے دعا کرنے کا حق ہے اور دعاسے روکنا بندے اور خدا کے درمیان حائل ہونا ہے۔دعا کو قابل تعزیر کیسے بناسکتے ہیں۔جسٹس قاسمی: آپ عربی میں دعا نہ کیا کریں۔مجیب الرحمن : آپ دیکھیں بات کہاں تک پہنچ رہی ہے۔کل شاید یہ بھی کہا جائے کہ عربی بھی نہ پڑھو حالانکہ ساری نماز عربی میں ہے۔یعنی مجھے یہ بھی کہا جائے گا کہ 24