امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 293
فرما کر اپنے حوض مورود اور شفاعتِ محمود سے کتوں سے بدتر کر کے دھتکار دیں گئے“۔(الشہاب الثاقب على المسترق الكاذب صفحہ 111) اسی طرح سے بریلوی حضرات کے بارہ میں دیوبندیوں کے شیخ القرآن کا یہ فتویٰ ہے کہ:۔نبی کو جو حاضر ناظر کہے بلا شک شرع اس کو کافر کہئے“۔” اور جو انہیں کافر و مشرک نہ کہے وہ بھی ایسا ہی کا فر ہے“۔”ایسے عقائد والے لوگ پکے کافر ہیں اور ان کا کوئی نکاح نہیں“۔اور ان کے نزدیک اگر اس عقیدہ کے ساتھ کوئی مر گیا تو ان کیلئے نہ دعا مانگنی چاہئے نہ صدقہ خیرات کرنی چاہئے نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیئے“۔(جواہر القرآن صفحہ 60 77 78 131) رہ گئے شیعہ حضرات تو ان کے بارہ میں حضرت سید عبدالقادر جیلانی کا فتویٰ یہ ہے کہ:۔انہوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے اور ایمان سے الگ ہو گئے ہیں۔غنية الطالبين تالیف عبد القادر جیلانی صفحه 220,218 مطبع حامی لاهور اکتوبر 1965ء) علمائے ماوراء النہر کے نزدیک :۔”بادشاہ اسلام بلکہ تمام انسانوں پر ان کا قتل کرنا اور ان کو مٹادینا دین حق کی سر بلندی کیلئے لازمی ہے اور ان کے مکانوں کو تباہ کرنا اور مال و اسباب کو لوٹ لینا جائز ہے۔(ردروافض صفحہ 67 مشمولہ مکتوبات امام ربانی جلد سوم مطبع نامی منشی نول کشور لکھنو ) اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے نزدیک فرقہ امامیہ حضرت صدیق اکبر کی خلافت کے منکر ہیں اور کتب فقہ میں لکھا ہے کہ جو صدیق اکبر کی خلافت کا انکار کرے گا وہ اجماع قطعی کا منکر اور کا فر ہو گا۔( مجموعہ فتاوی عزیزی کامل صفحه 377 ناشر مولوی محمد عبدالاحد مطبع مجتبائی دیلی از مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی باب العقائد ) 293