امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 290
گا۔اس بات کو نہیں مانتے کہ حضرت مسیح نے خدا تعالیٰ کی طرح حقیقی طور پر کسی مُردہ کو زندہ کیا ہو یا حقیقی طور پر کسی پرندہ کو پیدا کیا ہو کیونکہ اگر حقیقی طور پر حضرت مسیح کے مُردہ زندہ کرنے اور پرندہ پیدا کرنے کو تسلیم کیا جائے تو اس سے خدا تعالیٰ کی خلق اور اس کا احیاء مشتبہ ہو جائے مسیح کے پرندوں کا حال عصائے موسیٰ کی طرح ہے جیسے وہ سانپ کی طرح دوڑتا تھا مگر ہمیشہ کے لئے اس نے اپنی اصلی حالت کو نہ چھوڑا تھا ایسا ہی محققین نے لکھا ہے کہ مسیح کے پرندے لوگوں کے نظر آنے تک اڑتے تھے لیکن جب نظر سے اوجھل ہو جاتے تھے تو زمین پر گر پڑتے اور اپنی پہلی حالت پر آ جاتے تھے۔پس اس سے حقیقی زندگی کب حاصل ہوئی؟۔(روحانی خزائن جلد 7 صفحه -315- حمامة البشرى صفحه 90 ترجمه از عربی) نظروں سے اوجھل ہونے پر گر پڑنے کے بارے میں امام سیوطی نے ” جلالین، مطبع مجتبائی زیر آیت ال عمران آیت نمبر 49 صفحہ 49 پر، علامہ ابن حیان نے ”البحر المحیط جلد 2 صفحہ 466 پر اور امام وہب نے ” تفسیر نیشاپوری“ میں حاشیہ ابن جریر جلد نمبر 3 صفحہ 195 پر لکھا ہے۔پس حضرت مرزا صاحب نے انجیل کے افسانوی رنگ کے معجزات جو یسوع نے دکھائے ان سے انکار فرمایا ہے۔(7) عدالت نے اپنے فیصلہ صفحہ 137 تا 143 میں یہ پٹا ہوا اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ احمدی 290