امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 289 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 289

کی اپنی نظر اور فہم کی غلطی ہے ہمیں حضرت مسیح کے صاحب معجزات ہونے سے انکار نہیں“۔(روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 373,372 " شہادة القرآن صفحہ 78۔77 ماشیر) حضرت مرزا صاحب کو دراصل جس امر سے انکار تھاوہ حضرت مسیح کے معجزات کو ایسے غلو کا رنگ دینے سے تھا جس کے نتیجہ میں عیسائیوں کو یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک طرف حضرت مسیح کو خدائی کا مقام دیں اور دوسری طرف یہ کہ اُن کے معجزات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی نسبت بڑھا چڑھا کر پیش کریں۔چنانچہ آپ نے عیسائیت کے انجیلی بیانات پر سخت تنقید اور جرح کی ہے جن میں یسوع نامی شخصیت کی طرف معجزات منسوب کر کے اسے خدائی کا درجہ دیا جاتا ہے اور اسی تنقید کو غلط رنگ میں عدالت نے فیصلہ میں ذکر کیا ہے البتہ بحیثیت ایک پاکباز نبی کے ان کے قرآن میں مذکور معجزات سے حضرت مرزا صاحب انکار نہیں کرتے۔مگر قرآن کے بیان کردہ نشانات کو اگر انجیلی رنگ سے رنگین کر دیا جائے تو اُن کی حقیقت صداقت کے نشان کی بجائے محض شعبدہ بازی اور تماشے کی رہ جاتی ہے۔اور حضرت مرزا صاحب کے نزدیک حضرت مسیح کا مقام ایسی شعبدہ بازی سے پاک اور اعلیٰ تھا۔اگر حضرت مسیح لوگوں کے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے ، بیماروں کو تندرست کر دیتے تھے غیب دانی کے تحت اُن کے کھانے دانے تک بتا دیتے تھے تو چاہئے تھا کہ ایسے ظاہری رنگ کے نشانات دیکھ کر لوگ غیر معمولی تعداد میں آپ پر ایمان لے آتے لیکن ایمان لانے والوں کی تعداد تو بارہ حواریوں سے زائد نہیں بتائی جاتی، جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دیگر راستباز انبیاء کی طرح آپ کے نشانات بھی مادی اور ظاہری رنگ کی بجائے روحانی رنگ رکھتے تھے اور روحانی رنگ کے نشانات اور معجزات سے اہل دنیا ہمیشہ کم ہی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔” ہم حضرت مسیح کے اعجازی احیاء اور اعجازی خلق کو مانتے ہیں ہاں 289