امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 287
اپنے سر پر عطر ڈلوایا۔(متى 26/6، مرقس 14/3، يوحنا 12/6 ـ اهل حدیث امرتسر 31 مارچ 1939ء) چنانچہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے بھی گزشتہ علماء کی طرح پادریوں کی اس ظالمانہ زہریلی روش کے بالمقابل مسیحی مسلمات اور انجیلی بیانات کی روشنی میں الزامی جوابات پیش کئے ہیں جنہیں عدالت نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر حضرت مسیح کی تو ہین ثابت کرنے کے لئے پیش کیا ہے۔رہا یہ اعتراض کہ حضرت مرزا صاحب حضرت مسیح کے معجزات کے قائل نہ تھے تو یہ بھی ایک علمی سوال تھا جس کو اگر عدالت زیر بحث لاتی تو عدالت کو مطمئن کیا جا سکتا تھا، لیکن یہاں بھی عدالت نے محض یکطرفہ طور پر اور طعنہ زنی کے رنگ میں اعتراض کر دیا ہے اور حقیقت کو نہیں سمجھا۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسی کی طرف جس رنگ کے معجزات منسوب کئے جاتے ہیں وہ کسی اور نبی سے منسوب نہیں کئے جاتے حتی کہ خود نبیوں کے سردار خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس نوعیت کے معجزات منسوب نہیں ہیں۔مسیح سے جو معجزے منسوب کئے گئے وہ مسیح کی الوہیت اور مسیح کے ابن اللہ ہونے کی دلیل ٹھہرائے گئے اور اسی حیثیت میں عیسائی پادری انہیں پیش کرتے تھے، حضرت مرزا صاحب نے عیسائی پادریوں کے اس ادعاء الوہیت مسیح کے رد میں خود بائیبل سے مسیح کے معجزات کی حقیقت واضح کی اور یہ دکھایا کہ خودانا جیل کی رُو سے ان معجزات کی حقیقت کیا بنتی ہے اور اگر وہ معجزات اسی طرح ہیں جس طرح پادری بیان کر کے الوہیت مسیح ثابت کرنا چاہتے ہیں تو مسیح کے زمانے میں ایک آدمی بھی ایسانہ رہتا جو اتنے واضح معجزات دیکھ کر ایمان نہ لے آتا مگر تاریخی طور پر امر واقعہ یہ ہے کہ خود بائبل کے مطابق مسیح پر ایمان لانے والوں 287