امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 282 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 282

لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔لہذا یہ رسالہ لکھا گیا۔امید ہے کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے تاہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے وہ بھی سخت مجبوری سے۔کیونکہ اس نادان (فتح مسیح) نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دُکھایا ہے۔نور القرآن“ نمبر 2 صفحه 1 رساله فتح مبین) مگریہ وضاحت مرزا صاحب کی تحریرات میں موجود ہے کہ :۔وو پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسی کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اُس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں“۔تبلیغ رسالت جلد 5 صفحه 80 مجموعه اشتهارات حضرت مسیح موعود عليه السلام) پھر فرماتے ہیں:۔سو ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مرادلیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی ابن مریم جو نبی تھا اور جس کا ذکر قرآن میں ہے۔وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صدہا گالیوں سے بھر دیا ہے۔جس مولوی کی خواہش ہو وہ آکر دیکھ لئے“۔( تبلیغ رسالت جلد 4 صفحہ 66,65) پھر فرماتے ہیں:۔282