امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 281 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 281

وو بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ اُن کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں اور مسلمانوں پر واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیقی کا نام ڈاکو اور بٹھا رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا۔اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔نادان پادریوں کو چاہئے کہ بدزبانی اور گالیوں کا طریق چھوڑ دیں ورنہ نا معلوم خدا کی غیرت کیا کیا ان کو دکھلائے گی“۔(روحانی خزائن جلد 11 صفحه 292 293 ضمیمه انجام آتهم صفحه 9,8) اس فرضی مسیح کے بارے میں خود مولانا مودودی لکھتے ہیں:۔حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ( یعنی عیسائی ) اس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں ہیں جو عالم واقع میں ظاہر ہوا تھا۔بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم وگمان 66 سے ایک خیالی مسیح تصنیف کر کے اسے خدا بنا لیا ہے۔تفهيم القرآن جلد 1 صفحه 491 زیر آیت سوره مائده آیت 75) اور اس طرز خطاب کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔چونکہ پادری فتح مسح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر۔۔۔تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے۔اس 281