امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 279
بہر حال یہ بات بھی زیر بحث سوال کے فیصلہ کے لئے غیر متعلق تھی۔احمدیوں کی تعداد تھوڑی ہو یا زیادہ ، ترقی پذیر ہو یا انحطاط پذیر اس بارہ میں پیشگوئی سچی ہو یا نہ ہوان امور کا آرڈینینس کے خلاف قرآن وسنت ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تھا۔اور فیصلہ میں ان امور کا ذکر عدالت کے تعصب کی غمازی کرتا ہے اور یہ حصہ بھی حذف کئے جانے کے لائق ہے۔(6) عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ نمبر 111 اور اس کے بعد کے صفحات میں یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی تحریرات میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں ناروا الفاظ استعمال کئے ہیں۔ہر چند کہ یہ بات ضمنا عدالت کے روبرو زیر بحث آئی تھی اور سائلان کی جانب سے اس کا شافی جواب دے دیا گیا تھا جس کا ٹیپ ریکارڈ عدالت کے پاس موجود ہے۔عدالت نے سائلان کے پیش کردہ جواب کو قطعاً نظر انداز کر کے یک طرفہ طور پر اعتراض کو تو دھرایا اور سائلان کے جواب کا ذکر کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جو خدا کے ایک برگزیدہ نبی تھے اور جن کا ذکر قرآن حکیم میں موجود ہے اور جن پر ایمان لانا ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے ان کے بارے میں کسی قسم کے نازیبا الفاظ کے استعمال کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔یہ الزام سراسر غلط ہے، خصوصاً مرزا صاحب جو مثیل مسیح ہونے کے مدعی تھے ان کے بارے میں یہ الزام یوں بھی خلاف عقل ہے۔مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔" جس حالت میں مجھے دعوی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسی سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت 279