امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 275
باہر ہیں وہ دن بدن کم ہو کر اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں گے یا نابود ہو جائیں گے“۔اور اس کے بعد عدالت نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ:۔اس پیشگوئی کا بطلان اس قدر عیاں اور ظاہر ہے کہ اس بارہ میں کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں“۔بزعم خود اس عیاں اور ظاہر بطلان کے اظہار کے لئے عدالت نے 1981ء کی مردم شماری کے مطابق احمدیوں کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار بتائی ہے۔اور یہ ذکر کیا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد میں کئی گناہ اضافہ ہو چکا ہے۔جس بات پر عدالت نے توجہ نہیں کہ وہ یہ ہے کہ جو مسلمانوں میں کئی گناہ اضافہ بیان کیا جا رہا ہے وہ کون سے فرقے مسلمانوں میں داخل ہوئے۔عیسائیوں سے مسلمان ہوئے یا ہندؤوں سے یا محض آبادی کے اضافہ سے۔اور احمدیوں کی جو تعداد بیان کی گئی ہے اور جس مردم شماری کو بنیاد بنایا گیا ہے۔اس کا پایہ استناد کیا ہے؟ یہ تصور کرنا ناممکن ہے کہ 1981 ء کی مردم شماری اور اس میں احمدیوں کی تعداد کے بارہ میں عدالت کو کوئی خوش فہمی یا غلط فہمی ہو۔دنیا جانتی ہے کہ 1974 ء کی ترمیم کے بعد احمدیوں نے اپنے آپ کو غیر مسلموں کے زمرہ میں شمار کروانا اپنے ایمان کی توہین سمجھا اور اپنے تمام حقوق پر پڑنے والی ہر ممکنہ زدکو نظر انداز کرتے ہوئے اور مادی منفعتوں کی پرکاہ کے برابر بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو مردم شماری میں غیر مسلموں کے زمرہ میں شامل نہیں کروایا۔اور خود کو مسلمان ہی کہتے رہے تا آنکہ ضیاء الحق صاحب کا زیر نظر آرڈینینس نافذ ہوا جس کی وجہ عدالت کے فیصلے میں یہ بیان کی گئی ہے کہ احمدی خود کو مسلمان کہنے سے باز نہیں آتے۔گویا 1981 ء کی مردم شماری میں احمدیوں نے خود کو مسلمان ہی ظاہر کیا اور ایک لاکھ تین ہزار وہ اشخاص ہیں جو کسی ابہام یا 275