امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 266 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 266

کبھی قبول ہی نہیں کی اور وہ خود سمجھتے تھے کہ وہ نہ اہم ہیں نہ مامور اور مباہلہ کی جرأت نہ کی۔مگر جہاں قرآن کریم کا قائم کردہ معیار مباہلہ اور حضرت مرز اصاحب کی دعوت مباہلہ مولوی ثناء اللہ کو منظور نہ تھی۔کیونکہ بقول ان کے کوئی دانا اس کو منظور نہ کر سکتا تھا۔مگر مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے زبان اور قلم اور قول و فعل سے خود کو ایک معیار کا پابند کرلیا اور گو یا خدا سے اس معیار کے مطابق فیصلہ چاہا۔مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے اپنے اخبار اہلحدیث میں لکھا ہے کہ :۔” خدا تعالیٰ جھوٹے دغا بازمفتری اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کریں۔پھر تم کیسے من گھڑت اصول بتلاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی۔(اهلحديث صفحه 4۔26 اپریل 1907ء) مولوی ثناء اللہ صاحب نے جھوٹے کی لمبی عمر کو معیار قرار دیا اور سیلکھا کہ:۔یہ سرے سے حق و باطل کا معیار ہی نہیں کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں ہلاک ہو اور خدا تعالیٰ نے ان کے منہ مانگے معیار کے مطابق ان سے سلوک کیا۔بات مولوی ثناء اللہ صاحب کی غلط نہ تھی۔مباہلہ واقعی کچھ اور چیز ہے اور مباہلہ کے نتیجہ میں جھوٹا ضرور بچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے منہ سے اپنی موت کو بطور نشان طلب کرتا ہے۔مگر خود قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ جھوٹے ایسی موت کی تمنا نہیں کرتے فـلایـتـمـنـونـه ابدا بما قدمت ايديهم جو میعار مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے لئے خود ٹھہرایا خدا نے اسی کے مطابق ان کو ڈھیل دی اور لمبی عمر دی اور ان کو اپنے اس قول کے مطابق ” مہلت دی کہ وہ حضرت مرزا صاحب کی جی بھر کے مخالفت کر لیں۔اور حضرت مرزا صاحب کے بعد جماعت احمدیہ کی ایک خلافت بھی دیکھیں، دوسری خلافت بھی دیکھیں اور حضرت مرزا صاحب کے سلسلہ کو 266