امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 264 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 264

مولوی ثناء اللہ صاحب کا مباہلہ کو قبول کرنا یا نہ کرنا پہلا سوال تھا۔جسے حل کیا جانا ضروری تھا۔مگر عدالت نے ان تفصیلات میں جانے کی ضرورت ہی نہ سمجھی اور یہ کہہ کر طعنہ زنی کی کہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے مرزا صاحب نے جو طریقے اختیار کئے ان میں مخالفین کی موت کی پیشگوئی کرنا بھی شامل ہے۔جب کوئی مخالف مرتا کہ اسے ایک نہ ایک دن تو مرنا ہی تھا۔تو یہ مرزا صاحب کی مزعومہ سچائی کا ثبوت تصور کیا جاتا“۔گویا موت سے متعلق پیشگوئیاں یا نشانات عدالت کے نزدیک بے حقیقت چیز ہیں۔عدالت کا یہ انداز فکر بھی قرآنی علوم سے عدم واقفیت اور قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔مباہلہ کے لئے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخالفین کو جو پہیلنج دیاوہ قرآن حکیم کے الفاظ میں یہ ہے تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَ نَا وَأَبْنَاءَ كُمْ۔(آل عمران:62) اسی طرح سے سورۃ جمعہ میں موت کی خواہش خدا تعالیٰ نے حق و باطل کا معیار ٹھہرایا۔جیسا کہ فرمایا ہے:۔فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (الجمعه:7) اور ساتھ ہی کلام الہی نے یہ وضاحت بھی کر دی کہ جھوٹے کبھی موت کی تمنا نہیں کرتے۔جیسا کہ فرمایا وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ (الجمعه:8) چنانچہ یہ کہنا کہ موت کی پیشگوئی گویا کوئی بے حقیقت شئے تھی۔عدالت کے اپنے عدم علم پر دلالت کرتا ہے۔اور بہتر ہوتا کہ عدالت ایسے نازک امور میں یکطرفہ طور پر دخل اندازی نہ کرتی جس کا اسے علم ہی نہ تھا۔لا تقف مالیس لک به علم حضرت مرزا صاحب اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:۔قدیر و خالق ارض اے و سما اے رحیم و مهربان ورہنما 264