امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 262 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 262

کی صداقت کو اظہر من الشمس ثابت کر رہے ہیں۔تیسری انذاری پیشگوئی جس پر عدالت نے تبصرہ کیا ہے وہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے بارہ میں ہے۔اس معاملہ کا بھی سائلان کی درخواست سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کی وفات کے بارہ میں حضرت مرزا صاحب نے کوئی پیشگوئی کی تھی یا نہیں اور قرآن شریف کی شرائط کے مطابق مولوی ثناء اللہ صاحب نے مباہلہ قبول کیا یا نہیں اس کا معاملہ زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں۔اس بارہ میں مرزا صاحب کی پیشگوئی سچی یا جھوٹی ہونے سے آرڈینینس کا جواز یا عدم جواز متاثر نہیں ہوتا۔اگر مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی ہی نکلی تو کیا محض اس وجہ سے آرڈینینس قرآن وسنت کے مطابق ٹھہرے گا ؟ اور سائلان کی درخواست قابل اخراج قرار پائے گی یا اس کے برعکس صورت میں محض حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی کے سچا نکلنے سے آرڈینینس قرآن وسنت کے خلاف قرار پائے گا اور درخواست قبول کر لی جائے گی۔اگر نہیں تو پھر اس بحث کو فیصلہ میں داخل کرنا بھی ناروا اور نامناسب تھا۔علاوہ ازیں یہ معاملہ بھی یکطرفہ طور پر فیصلہ میں زیر بحث لایا گیا۔حالانکہ عدالت میں دوران بحث کسی فریق کی طرف سے نہ یہ معاملہ اٹھایا گیا اور نہ اس پر بحث ہوئی۔یہ امر کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی وفات کے بارے میں پیشگوئی کی گئی یا نہیں کی گئی قرآن کریم کی شرائط کے مطابق مولوی ثناء اللہ نے مباہلہ قبول کیا یا نہیں۔اس کے نتائج کیا تھے۔ی تفصیل چاہتا تھا اور اس پر سینکڑوں صفحات پر پھیلی ہوئی بحثیں موجود ہیں۔جن کی حقیقت اور ماحصل یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مباہلہ سے گریز کیا اور اسے قبول ہی نہیں کیا۔اور مرزا صاحب کی دعائے مباہلہ کے جواب میں انہوں نے خود یہ لکھا کہ :۔262