امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 257
اصولاً اس حق کو تسلیم نہیں کرتا کہ کوئی کسی شخص کے بارہ میں یہ کہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے کوئی بات الہاماً کہی یا نہیں؟ کیونکہ اگر یہ حق تسلیم کر لیا جائے تو تمام انبیاء پر حملے ہوں گے اور میور اور کر پارام کی قبیل کے تمام ابوالہوس انبیاء کے الہامات پر ہوس کی عینک لگا کر اعتراضات کریں گے۔محمدی بیگم کی پیشگوئی بھی محض شادی کی ایک پیشگوئی نہیں تھی۔حضرت مرزا صاحب اس بارہ میں بالوضاحت لکھ چکے تھے کہ ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہ تھی۔سب ضرورتوں کو خدا نے پورا کر دیا تھا۔اولا د بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہو گا۔لیکن ایک اور لڑ کا قریب مدت میں ہونے کا وعدہ دیا جا چکا ہے جس کا نام محمود احمد ہوگا وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہو گا۔پس یہ رشتہ کی درخواست محض بطور نشان ہے تا خدا تعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو عجوبہ قدرت دکھائے۔اگر وہ قبول کریں تو برکت اور رحمت کے نشان اس پر نازل کرے اور ان بلاؤں کو دفع کرے جو نز دیک ہیں۔لیکن اگر وہ رو کر دیں تو ان پر قہری نشان نازل کر کے ان کو متنبہ کرے۔یہ لوگ خود مرزا صاحب کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔اور ملحدانہ خیالات کے پیروکار تھے۔دین خداوندی سے مرتد ہو چکے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے تھے اور ایسے کلمات بولتے تھے جن کے نقل کرنے سے زبان کا نپتی ہے۔خدا کے وجود کے سرے سے منکر تھے اور مرزا صاحب کے سخت مکفر اور مکذب تھے۔(بحواله مکتوب شائع شده اخبار چشمه نور اگست 1885ء) غرضیکہ ان حالات میں محمدی بیگم کے بارے میں پیشگوئی کی گئی تھی اور یہ امر مامورین کی سنت کے خلاف نہیں تھا۔کیونکہ اقر بین کو انذار اور ان کو مختلف طریقوں سے قریب لانے کی کوشش سنتِ انبیاء میں سے ہے۔بسا اوقات نکاح واز دواج کے تعلقات سے خاندانوں میں اخوت و مودت بڑھتی اور خیالات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔اپنے ہی خاندان کے 257