امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 255
وو ” اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا یہ۔آپ کے منشاء کے موافق کامل پیشگوئی اور خدا کی پیشگوئی ٹھہرے گی یا نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کے بارے میں جن کو اندرونہ بائبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں محکم دلیل ہو جائے گی یا نہیں“۔اس کے علاوہ ایک عاجز بندے کو خدا بنانے کے اعتقاد کا ذکر اور اس کا پیشگوئی کی بنیاد ہونا عدالت کو تسلیم ہے اور اس عقیدے سے رجوع ہم آتھم کی اپنی تحریر سے ظاہر کر چکے ہیں۔دوسری پیشگوئی جس پر عدالت نے رائے زنی کی ہے۔اس کا تعلق محمدی بیگم کے نکاح اور بعض دیگر امور سے ہے۔عدالت نے فیصلہ کے صفحہ 59 سے لے کر صفحہ 65 تک محمدی بیگم کی پیشگوئی پر تبصرہ کیا ہے۔اصولی طور پر یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ پیشگوئی کے پورا ہونے یا نہ ہونے کا واقعات مقدمہ سے کوئی تعلق نہ تھا اور پیشگوئی کے پورا ہونے یا نہ ہونے سے مقدمے کے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تھا جو بات اہم اور قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ ان امور کا ذکر اور انداز بیان عدالت کی غیر جانبدارانہ حیثیت کو مجروح کرتا ہے۔عدالت نے اس پیشگوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔محمدی بیگم سے مرزا صاحب کی شادی کی کوششیں اور ان کی ناکامی معلوم و مشہور ہیں۔اور اس کے بعد پیشگوئی پر اعتراض اور اس کے نہ پورا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔انداز بیان یہ ہے کہ گویا محمدی بیگم سے شادی پیشگوئی کا بنیادی نقطہ تھی اور گویا شادی کی خاطر اپنی طرف سے الہام بنالیا تھا۔یہ انداز اختیار کر کے بد قسمتی سے عدالت نے اپنے آپ کو سرولیم 255