امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 250
عبد اللہ آتھم کون تھا؟ وہ عیسائیت کا ایک نہایت ہی سرگرم مبلغ اور مناظر مشہور تھا ایسے شخص کے مقابل میں جو مباحثہ مرزا صاحب نے کیا وہ رہتی دنیا تک یادگار رہے گا۔بنیادی عیسائی اور اسلامی عقائد منطق کی اصطلاحیں اور بحث مباحثہ کے کون کون سے طریق عبداللہ آتھم نے استعمال نہ کئے اور ان کا جواب کس شان سے دیا گیا۔یہ تاریخ کا ایک زریں باب ہے وہ مباحثہ کوئی زبانی مباحثہ نہ تھا، جو فضا میں تحلیل ہو گیا ہو بلکہ یہ مباحثہ تحریری طور پر عمل میں آیا اور جنگ مقدس کے نام سے شائع ہوا۔عدالت نے نہ صرف احمد یہ جماعت بلکہ اہل اسلام کی دل آزاری یہ کہہ کر کی کہ مرزا صاحب نے پادری کے دلائل سے عاجز آ کر مباہلہ کا اعلان یا مذکورہ پیش گوئی کر دی۔حق یہ ہے کہ عیسائیت اور اسلام کے درمیان اس معرکے میں اہل اسلام کی طرف سے پیش ہونے والے جری مناظر کو ہزیمت زدہ قرار دینا خود اسلام کے لئے غیرت کی نفی ہے۔مگر قطع نظر اس کے کہ اگر مرزا صاحب ہی دلائل میں عاجز آ گئے تھے تو مباحثہ تحریری موجود تھا وہ عیسائیوں کی طرف سے شائع ہونا چاہئے تھا، مگر انہوں نے اسے شائع نہ کیا اور مرزا صاحب نے پورا کا پورا مباحثہ شائع کر دیا تو ہزیمت زدہ کون تھا ؟ مرزا صاحب کی شائع کردہ مباحثہ کی یہ کارروائی آج بھی اہل علم کے مطالعہ کے لئے موجود ہے ہزیمت کسے ہوئی؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مباحثے میں عبداللہ آ تھم کی بیچارگی کا یہ عالم تھا کہ وہ بار بار اپنا بیان بدلتا تھا اور اس کو خود عیسائی سامعین اور پادری محسوس کرتے تھے اور دوران مباحثہ عبد اللہ آتھم بیماری کا عذر کر کے مناظرے سے الگ ہو گیا۔اور اس کی جگہ ہنری مارٹن کلارک کو پیش کیا گیا مناظر کا یوں میدانِ مناظرہ سے فرار مناظرے کو ختم کر دینے کے لئے کافی ہو سکتا تھا مگر مرزا صاحب تو حق کے قائل تھے چنانچہ مباحثہ جاری رہا۔غرضیکہ مباحثے سے پہلے اور بعد کے واقعات کا علم پیشگوئی کو سمجھنے کے لئے ضروری تھا 250