امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 247 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 247

پیشگوئیوں اور معجزات کی دنیا ایک بار یک امر ہے اور اس پر کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے عدالت کے لئے ضروری تھا کہ قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتی ، سائلان کو بحث کے لئے موقعہ بہم پہنچاتی تو یہ امر واضح ہو جاتا کہ انبیاء بشیر اور نذیر ہوتے ہیں وہ خوشخبریاں بھی سناتے ہیں اور انذاری پیشگوئیاں بھی ان سے ظہور میں آتی ہیں۔جو پیشگوئیاں تبشیری رنگ رکھتی ہیں وہ تو مومنوں کو حوصلہ دلانے اور از دیا دایمان کے لئے ہوتی ہیں اور انذاری پیشگوئیاں تخویف یعنی ڈرانے کے لئے ہوتی ہیں تا کہ غافل اور ضدی لوگ فائدہ اٹھائیں جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیتِ إِلَّا تَخْوِيْفاً ( بنی اسرائیل : 60 ) اور جیسا کہ امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر جز نمبر 2 میں فرماتے ہیں:۔خوشخبری تو حفظ صحت کے قائم مقام ہے اور انذار بیماری کے ازالہ کے قائمقام اور کوئی شک نہیں کہ مقصود پہلی بات ہی ہے“۔انداری پیشگوئیوں کے مطابق جس عذاب کی خبر دی جاتی ہے اس کا مقصد خوف دلانا ہی ہوتا ہے اور ان اقوام کو تباہ کر دینا بھی جو انذار سے فائدہ نہیں اٹھا تیں اور سرکشی میں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔جیسا کہ سورۃ سجدہ کی آیت 21 سے واضح ہے۔گو یا وعید کی اصل غرض رجوع کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے نہ کہ عذاب دینا جیسا کہ سورۃ اعراف کی آیت 95 میں لعلهم يضرعون سے واضح ہے اور عذاب کی پیشگوئیاں تو بہ اور استغفار سے ٹل جاتی ہیں جیسا کہ سورۃ انفال کی آیت 34 سے واضح ہے۔فرماتا ہے:۔یہ بات خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو عذاب دے جو استغفار کر رہے ہوں“۔آیات قرآنی، تاریخی واقعات اور ائمہ سلف کی تحریر میں اس امر پر شاہد ہیں کہ اگر کسی کے استغفار کی وجہ سے عذاب ٹل جائے تو پیشگوئی جھوٹی نہیں کہلا سکتی۔کیونکہ ہر انذاری 247