امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 246 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 246

کر کے غلط اور بے بنیا دباتوں سے سائلان کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور غلط نتائج اخذ کئے ہیں۔پیشگوئیاں ،منجزات اور نشانات مذہبی دنیا کے مہتم بالشان واقعات ہوتے ہیں، مگر تاریخ مذاہب شاہد ہے کہ منکرین کبھی معجزات کو دیکھ کر یا پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر ایمان نہیں لائے۔حضرت عیسی مردوں کو جلا بخشتے رہے کوڑھیوں کو چنگا کر دیا۔اندھوں کو بینائی بخشی مگر ان تمام بدیہی نشانات کے باوجودلوگوں کی اکثریت ان پر ایمان نہ لائی اور عیسائی لٹریچر کے مطابق صرف بارہ حواری انہیں میسر آئے۔حضرت موسی نے کیا کیا نشانات دکھائے۔ساحروں میں سے سعید روحیں تو ایمان لے آئیں لیکن انہی نشانات کو فرعون نے سچا تسلیم نہ کیا اور ایمان نہ لایا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شق القمر کو دیکھ کر کتنے لوگ ایمان لے آئے؟ ہر نبی کے زمانے میں مکذب رہے ہیں۔جب کسی نے دعوی کیا اس کا انکار کرنے والے پیدا ہو گئے۔جو لوگ مکذب ہونے پر فخر کرتے ہیں وہ تو لازما نبی کی پیش گوئیوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اس کے علاوہ ان کے لئے اور کوئی چارہ ہی نہیں۔اگر ان مکذبین کی عدالت قائم ہو تو یقیناً ان کے جھوٹا ہونے کا ہی فیصلہ دیں گے۔اس طرح تو ہر وہ نبی جس کو عدالت مسلمہ طور پر سچا تسلیم کرتی ہے اپنے مکذبین کے جھٹلانے کی وجہ سے جھوٹا ثابت ہو جائے گا۔عدالت نے حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کو موضوع بحث بنا کر خواہ نخواہ کی تکلیف گوارا کی۔کون نہیں جانتا کہ اگر فاضل عدالت کے ارکان مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کو سچا سمجھتے تو آج عدالت کی کرسی پر نہ ہوتے۔کیونکہ عدالت کی کرسی پر بیٹھنے سے پہلے انہیں مرزا صاحب کی تکذیب کا فارم پر کرنا پڑتا ہے۔اور عدالت کے سب ارکان یہ فارم پُر کر کے ہی کرسی عدالت پر رونق افروز ہو سکے تھے۔لہذا یہ عدالت کی مجبوری تھی کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کو غلط قرار دیتی۔246