امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 245
غور سے دیکھا جائے تو مامورین کی زندگی میں دعوی کا تدریجی ارتقاء دراصل ان کی صداقت کی ایک دلیل بن جاتا ہے۔کیونکہ اگر کوئی مدعی اپنے دعوی میں جھوٹا ہو تو مخالفت کی وجہ سے قدم پیچھے کی طرف ہٹنا چاہئے۔اگر مقصد شہرت عام یا سرداری حاصل کرنا یا دولت کمانا ہو تو کوئی جھوٹا مدعی مخالفت کے باوجود اپنے دعوی میں آگے کو نہیں بڑھ سکتا۔مگر مامورین الہی کی عجیب کیفیت ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے علم کی وجہ سے جو بات کہتے ہیں اس کی بناء پر زمانہ ان کا مخالف ہو جاتا ہے ، ان کی ساری عظمت گو یا کھوئی جاتی ہے اور ایک شدید ابتلاء کا دور شروع ہو جاتا ہے مگر وہ الہی اشاروں پر اپنا قدم اور آگے بڑھاتے ہیں اور انہیں اس بات کی پرکاہ کے برابر بھی پروانہیں ہوتی کہ ان کا ہر نیا دعویٰ اہل دنیا کے نزدیک ان کی شہرت کو ختم کر دیتا ہے۔(5) ایک اور امر جس کو عدالت موصوف نے ناروا اور نا جائز طور پر اپنے فیصلہ میں شامل کیا وہ مرز اصاحب کی بعض پیشگوئیوں سے تعلق رکھتا ہے۔مرزا صاحب کی پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں یا روز روشن کی طرف پوری آب و تاب کے ساتھ سچی ثابت ہوئیں اور دلوں کی تاریکیاں دور کرنے کا باعث بنیں یہ امر عدالت کے زیر غور ہی نہیں تھا۔اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیاں بچی نکلیں تو بھی آئینی ترمیم کو عدالت مسترد نہیں کر سکتی تھی اور مرزا صاحب کو سچا قرار دے کر احمدیوں کو مسلمان قرار دینے کی مجاز نہیں تھی اور نہ ہی پیشگوئیوں کی صداقت کو بنیاد بنا کر عدالت یہ فیصلہ کر سکتی تھی کہ زیر نظر آرڈینینس قرآن وسنت کے منافی ہے لہذا یہ ساری بحث ہی لاتعلق اور غیر ضروری تھی۔عدالت نے یہ امر اپنے فیصلہ میں شامل 245