امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 19
مدینہ کے مسلمانوں کو قوت حاصل ہوئی اور بنو نضیر کی جلاوطنی کے وقت مسلمانوں کے دل میں یہ معمولی سا خیال پیدا ہوا کہ وہ اپنے بچوں کو جبر ابنو نضیر سے واپس لے لیں تو لَا إِكْرَاهَ فِى الدین کی آیت نازل ہوئی۔ہم نے اکراہ کے مضمون و معانی کو بھی لغت وفقہ سے بڑی شرح وبسط کے ساتھ عدالت میں پیش کیا کہ محض دھمکی دینا بھی اکراہ میں شامل ہے اور کسی سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کروانا بھی اکراہ میں شامل ہے۔مذہب کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور جو شخص یہ حق چھینتا ہے وہ گویا اس کی انسانیت چھینتا ہے اور حدیث صحاح ستہ اور مختلف حوالوں سے ہم نے عدالت پر یہ واضح کیا کہ اگر غور کیا جائے تو مذہبی آزادی کے چار پہلو ہیں :۔-1 کسی کو مذہب میں داخل کرنے کے لئے جبر نہ کیا جائے۔2 اگر کوئی داخل ہونا چاہے تو اسے داخل ہونے سے جبر اروکا نہ جائے۔اگر کوئی مذہب پر رہنا چاہے تو اسے جبر نکالا نہ جائے۔-4- اگر کوئی مذہب میں نہ رہنا چاہے تو اسے مذہب میں رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔اس کے بعد آرڈینینس کی عائد کردہ پابندیوں پرشق وار بحث کی جس کا خلاصہ قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔19