امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 232
اپنے پہلے خطبہ میں کیا ارشاد فرمایا ؟ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے یہی آیت تلاوت فرمائی کہ محمد رسول ہی تو تھے اگر آپ وفات پا جائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔گو یا واقعی اُحد والی بات یاد دلائی اور پھر کہا کہ دیکھو حضور کو فوت ہونا ہی تھا حضور قوت ہو گئے اور خدا کی سنت کی دلیل ٹھہرایا کہ آپ سے پہلے سارے رسول فوت ہو چکے ہیں۔گویا اس ایک آیت کا مفہوم دو مرتبہ صحابہ کی زندگی میں واضح ہو کر سامنے آیا۔ایک اس وقت جب یہ آیت نازل ہوئی اور ایک اس وقت جب حضور نے وفات پائی۔دونوں موقعوں پر وفات کا مضمون ہی بیان کرنا مقصود نظر آتا ہے۔غرضیکہ ایک دو مقام پر نہیں۔درجنوں مقامات پر عیسی کی وفات مذکور ہے اور اب تو جب سے حضرت مرزا صاحب نے اس عقدے کو حل کیا ہے تاریخ نے اپنے دفینے اگل دیئے ہیں اور زمانہ نت نئے شوہر اس بات کے پیش کر رہا ہے کہ عیسی کو اللہ تعالیٰ نے واقعہ صلیب کے بعد ایک لمبی عمر عطا کی اور وہ اپنے مشن کی تکمیل کے بعد طبعی موت سے دو چار ہوئے۔تاریخ اور سائنس کے شواہد اور انجیل اور بائیبل کی شہادت سب اسی حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں اور اس بارے میں دلائل کا اتنا انبار لگ چکا ہے کہ اس حقیقت سے اب انکار ممکن نہیں رہا اور مسلمانوں میں سے اہل علم حیات مسیح کا عقیدہ چھوڑ کر وفات مسیح کے قائل ہوتے جارہے ہیں۔وفات مسیح ناصری علیہ السلام کے بارے میں ایک مختصر بحث ہم نے نمونتاً پیش کی ہے۔ور نہ قرآن کریم میں کم و بیش تمہیں آیات حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی خبر دے رہی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث اور بزرگان سلف کے اقوال کی رو سے حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔بزرگان امت محمدیہ میں سے حضرت ابوبکر 232