امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 230
متعدد دیگر مقامات پر قرآن شریف میں کہیں الوہیت مسیح کی تردید میں وفات مسیح کا ذکر ملتا ہے کہ خدا نے ان کو وفات دی اور مسیح وفات پا گئے اور کہیں ان کی بشریت ورسالت کے ثبوت میں دلیل استقراء کے طور پر آپ کی طبعی موت کا ذکر ہے کیونکہ آپ رسول تھے اور سب رسول وفات پاچکے۔چنانچہ فرمایا :۔مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ (المائده : 76) یعنی مسیح ابن مریم صرف ایک رسول تھے اور ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے۔اس آیت سے گو اس بات کا ثبوت تو ملتا تھا کہ حضرت مسیح سے پہلے تمام رسول وفات پا چکے ہیں اور مسیح رسول اللہ کا وفات پا جانا اس کا منطقی استقرائی نتیجہ تھا مگر معین طور پر یہ مذکور نہ تھا کہ دراصل وہ وفات پا بھی گئے اور اشتباہ کی گنجائش موجود تھی مگر قرآن حکیم نے اس اشتباہ کو بھی سورۂ آل عمران کی اس آیت سے دور کر دیا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں یہی مضمون مذکور ہے جیسا کہ فرمایا :۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران 145) و یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے سب رسول وفات پاچکے ہیں۔یہی وہ آیت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر صحابہ کرام کے لئے ڈھارس بنی۔جب رسول اللہ کی وفات کی خبر سن کر صحابہ مارے غم کے دیوانے ہوئے جا رہے تھے اور حضرت عمر جیسا جری اور زیرک انسان بھی یہ باور کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ ان کے پیارے آقا وفات پاچکے ہیں اس وقت جناب صدیق اکبر نے اسی آیت کی تلاوت 230