امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 226 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 226

چنانچہ خود عدالت نے حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی کے بارے میں علامہ زمخشری کی تفسیر کشاف علامہ بیضاوی کی ” انوار التنزیل“ علامہ نسفی کی ”مدارک التنزیل“ علامہ سیوطی کی ” جلالین ، علامہ آلوسی کی ”روح المعانی وغیرہ تفاسیر کے حوالے درج کئے ہیں۔جن کا ماحصل یہ ہے کہ بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور آخری نبی ہیں مگر حضرت عیسی علیہ السلام بھی ضرور تشریف لائیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو نبی بنایا نہیں جائے گا یا یوں کہئے کہ کسی کو نبوت عطا نہیں ہوگی۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبوت کا منصب ختم ہو گیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ آنحضور سے پہلے مبعوث ہو چکے اور دوسری مرتبہ آپ کی شریعت کے پیرو اور امت کے فرد ہو کر آئیں گے لہذا ان کی آمد سے ختم نبوت کی مہر متاثر نہیں ہوگی۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوز مانی لحاظ سے آخری نبی قرار دینے والوں کی دلیل یہ ٹھہری کہ چونکہ آپ خاتم النبیین ہیں اس لئے آپ کے بعد کوئی نبی بن تو نہیں سکتا۔البتہ اگر کوئی نبی زندہ ہے اور اس کی نبوت سلب نہیں ہوئی تو وہ آسکتا ہے۔غور کیجئے تو اصل سوال یہ ہے کہ مسیح بنی اسرائیل کی دوبارہ آمد آخر کیوں؟ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے ” ضرورت گویا حضرت مسیح نبی اللہ کی آمد ثانی کا اقرار دراصل ضرورت نبوت کا اقرار ہے اور جب نبوت کی ضرورت موجود ہے تو ” مہر نبوت کو تو اس ضرورت نے ہی ختم کر دیا۔یہ امر عقلاً محال اور شان خدائی کے خلاف ہے کہ ضرورت تو پیدا ہو جائے لیکن خدا اسے پورا نہ کر سکے یا نہ کرے اور جب خدا تعالیٰ کو اس ضرورت کے پورا کرنے پر قادر سمجھا جائے تو یہ بحث خود بخو دا تعلق ہو جاتی ہے کہ نبی نیا ہو یا پرانا۔کیونکہ یہ وو اصول تو تسلیم ہو گیا کہ آنے والا شریعت محمدیہ کے اندر ہے تو کوئی حرج نہیں۔اگر بوجہ ضرورت پرانے نبی کے آنے سے نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی تو اسی ضرورت کے 226