امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 225
وو ایک آنے والے کی خبر بھی دے رہے ہیں جس کے بارے میں امت کا کوئی اختلاف نہیں۔” لانبی بعدی“ کا لفظ حضور نے اپنے معابعد کے زمانہ کے لئے استعمال فرمایا ہے اور اس بات کی نفی فرمائی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل میں تواتر کے ساتھ ایک کے بعد دوسرا نبی آتا چلا گیا حضور کے معابعد نبوت نہیں بلکہ خلافت قائم ہوگی اور جب آنے والے کا وقت آئے گا تو وہ یعنی عیسی نبی اللہ بھی آئے گا اور یہ بھی فرمایا کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔بعض دوسرے مقامات پر ” بعد کا لفظ مقام اور مکانی اعتبار سے ایک بالکل مختلف مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے۔الغرض جب متفقہ طور پر عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی مسلّمہ ہے تو آخری نبی کے معنی کا مخصوص اور مقید ہونا بھی تمام امت میں متفق علیہ ہے۔(اس امر کی تائیدان احادیث سے بھی ہوتی ہے جو عدالت نے درج کی ہیں ) خلاصہ بحث یہ ہے کہ تمام مسائل اور پہلو جو ایک تفصیلی بحث کے متقاضی تھے جس میں متعدد آیات قرآنی اور حضور کے بہت سے اقوال کی چھان بین حضور کے ارشادات کی باہم موافقت اور تطبیق ضروری تھی اور اس بارہ میں جماعت احمدیہ کی مخالف آراء یک طرفہ طور پر زیر غور لا کر کوئی رائے قائم کرنا یا ان کو فیصلے میں شامل کر لینا قریں انصاف نہیں لہذا فیصلے کا یہ حصہ بھی حذف کئے جانے کے لائق ہے۔بالخصوص اس لئے کہ آئینی ترمیم کی موجودگی میں یہ بحث غیر متعلق تھی۔یہ ایک خالص اعتقادی سوال تھا جو نہ عدالت کے زیر غور تھا اور نہ عدالت فیصلہ دینے کی مجاز تھی۔حقیقت الامر یہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اور جماعت احمدیہ کے عقیدہ میں ختم نبوت کے بارے میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے اصل اختلاف حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی کے بارے میں ہے۔فریقین کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ حضور کے آخری نبی ہونے کے جو معنی بھی ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد اس سے متعارض نہیں۔225