امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 17
قرآن فہمی کا اولین اصول تو یہ ہے کہ قرآنی احکام کی تفسیر قرآن ہی سے حاصل کی جائے کیونکہ قرآن کریم نے کوئی اہم مضمون محض سرسری طور پر بیان کر کے نہیں چھوڑ دیا بلکہ تمام مضامین کو مختلف پیرائے میں پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اور تصریف آیات کے ذریعہ ذہن نشین کروایا ہے۔کہیں ایک مضمون اجمالاً بیان ہوا ہے تو دوسری جگہ تفصیلاً بیان فرما دیا ہے۔اسی طرح آیات قرآنی کا شان نزول بھی آیات کا مفہوم سمجھنے میں محمد ہو سکتا ہے۔سبب نزول کی معرفت سے آیات کے معانی سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے مگر نصوص قرآنی میں اعتبار، الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے سبب کے خاص ہونے کا نہیں۔الغرض ہم نے قرآن حکیم کو سمجھنے کیلئے یہ پانچ بنیادی اصول عدالت کے سامنے رکھے:۔-1- تفسیر القرآن بالقرآن 2 آیات کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور سنتِ متواترہ 3 صحابہ و رسول کے اقوال 4 لغت عرب کی طرف رجوع 5- تفسیر بتقاضہ کلام کسی امر میں یا کسی قرآنی حکم کے بارہ میں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تفسیر یا تشریح صحیح ثابت ہو جائے تو پھر کسی اور قول کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی واضح قول نہ ملے تو حضور کے بعد صحابہ رسول کے اقوال معتبر ٹھہریں گے۔یعنی قرآن کو صاحب قرآن سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ قرآن آپ پر نازل ہوا تھا اور آپ کو اس کی حکمتیں سمجھائی گئی تھیں اور آپ کے صحابہ نے براہ راست وہ حکمتیں آپ سے حاصل کیں۔یہ بنیاد میں قائم کرنے کے بعد ہم نے اپنی اصل بحث کا آغاز کیا اور اس میں پھر بعض بنیادی امور کی طرف عدالت کی توجہ مبذول کروائی۔مسجد ، اذان ، چند القاب اور تبلیغ وغیرہ 17