امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 222 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 222

ان جملہ بزرگوں کے نزدیک حضور کا آخری نبی ہونا قطعی اور غیر مشروط معنوں میں نہیں بلکہ ان مخصوص معنوں میں ہے کہ آپ ہی کی امت میں سے ہو کر آنے والا ، آپ ہی کی شریعت پر عمل کرنے والا اور آپ ہی کے قبلہ کو اپنانے والا ایک سابق نبی ظہور پذیر ہو تو ان بزرگوں کے نزدیک ختم نبوت متاثر نہیں ہوگی گویا محدود اور مخصوص معنوں میں ایک نبی کے ظہور کے یہ بزرگان بھی قائل ہیں اور یہ ہماری بات نہیں عدالت نے بھی اپنے فیصلہ میں صفحہ 22 پر تسلیم کیا ہے کہ امام زمخشری تفسیر کشاف میں، قاضی بیضاوی انوار التنزیل میں، امام رازی تفسیر کبیر میں ، امام نووی شرح مسلم میں، امام علاؤ الدین بغدادی تفسیر خازن میں، علامہ تفتازانی شرح عقائد نسفی میں ، ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں ، بدرالدین عینی عمدۃ القاری میں ، امام قسطلانی ارشاد الساری میں، ابن بشیمی فتاوی حدیثیہ میں، شیخ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں، علامہ زرقانی شرح مواہب اللہ نیہ میں اسی نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں کہ حضرت عیسی کی بعثت ثانیہ کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث میں کوئی تعارض نہیں۔گویا عدالت کے اپنے پیش کردہ حوالہ جات اس مفروضہ کی تائید نہیں کر رہے جو عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ 9 میں لکھ دیا کہ تمام مکاتب فکر قطعی اور غیر مشروط طور پر حضور کے آخری نبی ہونے کے قائل ہیں۔مندرجہ بالا سبھی ائمہ اور اولیاء کرام حضور کو ان مخصوص معنوں میں آخری نبی قرار دے رہے ہیں کہ آپ کے بعد ایک نبی بہر حال ظاہر ہوگا۔لہذا عدالت کا یہ مفروضہ درست نہیں کہ حضور کے قطعی اور غیر مشروط طور پر آخری نبی ہونے پر اُمت کا اتفاق یا اجماع ہے بلکہ امت کا اس کے بالکل بر عکس مخصوص اور محدود معنوں میں آخری نبی ہونے پر اجماع مندرجہ بالا تمام حوالہ جات سے جو خود عدالت نے درج کئے ہیں، ظاہر ہوتا ہے۔قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور امت مسلمہ کے بزرگ علماء کے اقوال کا تفصیلی جائزہ 222