امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 221
اسی پر بس نہیں۔علامہ نسفی کی تفسیر مدارک التنزیل کا حوالہ بھی عدالت نے نقل کیا ہے اور اس کا جو تر جمہ عدالت نے کیا ہے وہ یہ ہے:۔" کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین یعنی آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی اور شخص نبوت پر فائز نہ ہوگا۔رہے حضرت عیسی تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جو آپ سے پہلے مبعوث ہو چکے اور جب وہ دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور آپ ہی کی امت کے فرد کی طرح ہوں گے۔اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی کی تفسیر جلالین کا حوالہ بھی عدالت نے نقل کیا ہےکہ:۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور حضرت عیسی جب نازل ہونگے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے پیرو ہوں گے۔شیخ اسماعیل حقی کی تفسیر روح البیان کا حوالہ بھی عدالت نے دیا ہے اور اس حوالہ کا یہ حصہ قابل توجہ ہے کہ :۔" حضرت عیسی کی بعثت ثانیہ سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی حیثیت متاثر نہیں ہوتی اور یہ کہ حضرت عیسی بعثت ثانیہ کے وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے متبع ہونگے اور آپ دوسرے امتیوں کی طرح انہی کے قبلہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کریں گے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہونگے“۔یہ حوالہ جات جو خود عدالت نے نقل کئے ہیں عدالت کے اس ادعا کی نفی کر رہے ہیں کہ تمام مکاتب فکر متفقہ طور پر حضور کو قطعی و غیر مشروط طور پر آخری نبی تصور کرتے ہیں۔221