امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 215 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 215

نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ 10 سے لے کر صفحہ 13 تک لفظ ختم “ اور ” خائم کے معانی کی بحث کی ہے لیکن جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں لغت مختلف فیہ نہیں۔لفظ خاتم کے خواہ حقیقی معنی یعنی نبیوں کی مہر لئے جائیں۔خواہ مجازی معنی یعنی آخری نبی کئے جائیں۔دونوں صورتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی مہر بھی ہیں اور مخصوص معنوں میں آخری نبی بھی۔البتہ آیت کے معنوں میں اختلاف ” مطلق اور غیر مشروط آخری نبی کے الفاظ سے پیدا ہوتا ہے۔جو نہ تو آیت خاتم النبین میں موجود ہیں نہ خاتم کے لغوی معنی میں شامل ہیں اور نہ ہی اُمت مسلمہ کے مسلّمہ عقیدہ ختم نبوت کا حصہ ہو سکتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسی نبی اللہ کی دوبارہ آمد کا عقیدہ رکھتی ہے۔اس پہلو سے عدالت کا یہ مفروضہ کہ تمام مکاتب فکر کے مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر مشروط اور قطعی طور پر آخری نبی تصور کرتے ہیں۔فی الواقعہ غلط ، تاریخی شواہد کے خلاف کم علمی اور قلت تذبر پر مبنی ہے۔اس امر کا ثبوت کہ عدالت کا یہ مفروضہ بالبداہت غلط ہے خود عدالت کے فیصلہ میں موجود ہے چنانچہ عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ 14 پر واشگاف الفاظ میں یہ قرار دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس امت میں سے ہو کر تشریف لائیں گے گویا ایک پرانے نبی کا آنا اور امت میں سے ہو کر آنا یہ دوشرائط ایسی ہیں جو حضور کے آخری نبی ہونے کو مشروط کر رہی ہیں۔لہذا خود عدالت کے فیصلہ کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم قطعی اور غیر مشروط طور پر آخری نبی نہیں۔مگر قطع نظر اس کے کہ عدالت کے فیصلہ میں تضاد ہے خود امت مسلمہ کی تاریخ اور تمام مسلمان فرقوں کے عقائد کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ آنحضور گو غیر مشروط آخری نبی ماننے میں تمام فرقوں کا آپس میں اتفاق نہیں۔دور کیوں جائیے خود دیوبندی فرقہ کے بانی مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا عقیدہ اس 215