امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 214
حصے حذف کئے جانے کے لائق ہیں۔مگر عدالت موصوف نے اپنے فیصلہ میں تعصب کی راہ سے ان امور کو شامل کر کے سائلان کے خلاف جو دلآزار مخالفانہ مواد فیصلہ کے ذریعہ سے شائع کیا ہے اس کا ایک اجمالی محاکمہ اس غرض سے پیش ہے تا یہ واضح ہو سکے کہ نہ صرف یہ۔کہ ان مسائل کا مقدمہ کے فیصلہ سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ بھی ظاہر کیا جا سکے کہ یہ حصہ خالص تعصب اور جانبداری کی وجہ سے فیصلہ میں شامل کیا گیا ہے جس سے فیصلہ کا تقدس پامال ہوا ہے اور پورا فیصلہ ہی رڈ کئے جانے کے لائق ہے۔(1) وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں صفحہ 9 کے آخری پیرا گراف میں لکھا ہے کہ:۔تمام مکاتب فکر کے مسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قطعی اور غیر مشروط آخری نبی ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اس بات کو اپنا جزو ایمان سمجھتے ہیں اور یہ متفقہ اعتقاد قرآن شریف کی آیت 40/33 پر مبنی ہے۔مذکورہ آیت، اس کا ترجمہ اور اس کی تشریحات و تفسیرات ذیل میں لکھی جاتی ہیں:۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً - ترجمہ: محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔اور ایک پیغمبر ہیں اور نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔زیر نظر اقتباس میں آیت خاتم النبیین کا ترجمہ کرتے ہوئے عدالت نے بھی لفظ خاتم النبیین کا ترجمہ آخری نبی نہیں کیا۔بلکہ نبیوں کی مہر ہی ترجمہ کیا ہے۔جہاں تک لغوی ترجمہ کا تعلق ہے جماعت احمدیہ کا دیگر مسلمانوں کے ساتھ کوئی اختلاف 214