امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 16
معصیت کا شکار ہونے سے بچ جائے اور قرآن وسنت کے خلاف تعزیری قوانین نافذ کرنے کے وبال سے بچ جائے۔اس بات کا بھی اظہار کیا کہ تعزیری قوانین اگر قرآن وسنت سے متصادم ہوں تو قوم ایک بہت بڑے انتشار کا شکار ہو سکتی ہے کیونکہ قرآن وسنت کے خلاف احکام کی اطاعت لازم نہیں۔دوسرا حصار ہم نے یہ قائم کیا کہ قوانین کو جائز ٹھہرانے کے لئے صرف قرآن وسنت ہی پر انحصار کیا جائے گا اور کوئی قیاس، استدلال، استنباط یا فقہ کسوٹی کے طور پر بنیاد نہیں ٹھہرے گا۔اور ہم نے عدالت میں یہ بڑی تحدی کے ساتھ کہا کہ فیصلہ صرف قرآن اور سنت پر ہو گا۔قرآن اور سنت سے براہِ راست استفادہ کیا جائے گا۔اس کے لئے کتب تفاسیر اور آئمہ سلف سے مددضرور لی جائے گی۔مگر فیصلہ صرف قرآن وسنت پر ہوگا۔کسی فقہ کی تقلید بنیاد نہیں ٹھہرے گی۔اور ہم نے یہ بحث کی کہ یہ صرف ہمارا نقطہ نظر نہیں بلکہ خود آئین کے آرٹیکل D-203 سے یہ بات واضح ہے کہ صرف قرآن اور سنت ہی قوانین کے جواز یا بطلان کا معیار ٹھہریں گے۔ہم نے عدالت سے یہ کہا کہ آئین نے آپ کو قرآن اور سنت کا پابند کر کے ہر دوسرے کی تقلید سے آزاد کر دیا ہے اور یوں ایک پہلو سے عدالت کا اختیار محدود ہو گیا ہے کیونکہ وہ قرآن وسنت سے باہر نہیں جا سکتی۔دوسرے پہلو سے اس کے اختیارات میں بے پناہ وسعت پیدا کر دی گئی ہے کیونکہ اسے ہر تقلید سے آزاد کر دیا گیا ہے۔تیسرا حصار ہم نے یہ قائم کیا کہ جب فیصلے کی بنیا د صرف قرآن وسنت ہے تو یہ بات بھی طے ہو جانی چاہئے کہ قرآنی احکام کو سمجھنے کے اصول کیا ہو نگے۔اس بارہ میں ہم نے عدالت کے سامنے چند اصول بیان کئے۔یہ اصول کم و بیش تمام متقدمین اور متاخرین میں متفق علیہ ہیں۔ہم نے اپنی بحث میں جو اصول عدالت کے سامنے پیش کئے وہ یہ تھے : 16