امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 213
اعتراضات جنہیں پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے زبان کا نپتی اور خون کھول اٹھتا ہے آنکھیں چھلک جاتی ہیں وہ یہ سب کفریہ اور دل آزار کلمات نقل کر کے یہ قرار دے کہ چونکہ ہمارے پادریوں نے مسلمانوں کے رسول کے بارہ میں یہ کچھ لکھا ہے لہذا ہماری اپنی بنیادی دستوری قدروں سے قطع نظر ہم اس قانون کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں جو مسلمانوں پر پابندی کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اگر نہیں تو پھر وفاقی شرعی عدالت کو یہ اختیار کہاں سے ملا اور قانون، منطق اور شائستگی کے کن اصولوں پر بنیاد کر کے عدالت نے احمدیوں کے عقائد اور حضرت مرزا صاحب کے دعاوی پر تمسخر اور استہزاء کے انداز میں قلم اٹھانے کو جائز سمجھا اور روا رکھا۔عدالتی اصول اور روایات اور روح انصاف کا فتویٰ یہی ہوگا کہ یہ بحث اور استدلال کا یہ انداز سراسر غیر ضروری اور غیر متعلق تھا۔مگر عدالت نے تمام عدالتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے متعدد امور فیصلہ میں داخل کئے جو مسئلہ زیر بحث کے فیصلہ کے لئے قطعاً غیر ضروری تھے۔عدالت خود ایک فریق مقدمہ بن گئی اور یکطرفہ طور پر بلا جواز غیر ضروری مباحث فیصلہ میں داخل کئے اور اپنے فیصلہ میں ایسا مواد شامل کیا جو تاریخی شواہد کے سراسر خلاف اور غلط مفروضوں پر مبنی ہے اور اس بارہ میں جماعت احمدیہ کے مخالفانہ لٹریچر سے متاثر ہو کر اور منتشر اقتباسات پر انحصار کرتے ہوئے، جلد بازی سے بلاتحقیق نازک اعتقادی امور پر رائے زنی کی جو واضح طور پر کوتاہی فکر، کم علمی ، قلت تذ بر اور مذہبی امور سے ناواقفیت کی آئینہ دار ہے۔عدالت کے فیصلہ میں جگہ جگہ ایسے زہر آلود فقرات بکھرے پڑے ہیں جو محض طعنہ زنی اور دلآزاری کا باعث ہیں اور جو عدالت کے انتہائی تعصب کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔اور عدالت کے فیصلہ کا ایک بہت بڑا حصہ (صفحہ 9 تا صفحہ 152) ایسے ہی مباحث پر مشتمل ہے اور چونکہ ان مباحث کا زیر غور سوال سے کوئی تعلق نہ تھا۔فیصلہ کے یہ 213