امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 212
لڑکھڑاتا ہے۔مثلاً کیا اس عیسائی عدالت کے لئے یہ جائز ہوگا کہ اپنے ملک کی آئینی قدروں پر فیصلہ کرنے کی بجائے پادری رانکلین ( واقع البرجان مصنفه پادری را نکلین مطبوعہ مشن پریس الہ آباد 1845ء) سے ہم زبان ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرزہ سرائی کرے اور اس کو فیصلہ کی بنیاد بنائے۔اور کیا اس عیسائی عدالت کے لئے جائز ہوگا کہ وہ مظلوم اور بے بس اور اقلیت میں بسنے والے مسلمان سائل کی درخواست پر پادری ٹھا کر داس (سیرت المحمد و مسیح مصنفہ ٹھا کر داس مشنری امریکن مشن 1882ء) کی کتاب پر انحصار کرے۔یا پادری ولیم آف ریواڑی کی کتاب ( محمد کی تواریخ کا اجمال مطبوعہ کر سیٹن مشن ریواڑی 1891ء) میں ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کئے گئے اعتراضات نقل کرے۔اور کیا عدالت کے لئے جائز ہوگا کہ وہ پادری اور نگ واشنگٹن (سوانح عمری محمد صاحب مصنفہ اورنگ واشنگٹن ترجمہ لالہ رلیا رام گھولائی مطبوعہ مطبع اڑور بنس لاہور ) کے حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دل آزار حوالے لکھ کر اپنے ملک کے غریب اور بے بس مسلمانوں کی دلآ زاری کرے۔( نوٹ : ان جملہ حوالوں کی زبان ایسی ہے کہ ان کا یہاں نقل کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔البتہ نکتہ زیر بحث کی وضاحت کے لئے حوالوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ عدالت کا انداز فکر غیر مسلم معترضین اسلام کا سا ہے۔) اور کیا انصاف سے دور کا بھی لگاؤ رکھنے والا کوئی شخص اس بات کو جائز قرار دے گا کہ وہ عیسائی عدالت مسلمان کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے پادری را جرس ( تفتیش الاسلام مصنفہ پادری را جرس صفحہ 97,65,57,56) کی تحریرات کو بنیاد بنا کر وہ تمام ذلیل اور گندے 212