امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 206 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 206

نہ تو زیر بحث تھے نہ ہی درخواست کے فیصلہ سے ان کا کوئی تعلق تھا۔سائلان جماعت احمد یہ کے افراد ہیں۔اور علی وجہ البصیرت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے جملہ دعاوی پر ایمان رکھتے ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق صدق دل سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فرزند، خادم اور غلام اور مسیح موعود و مہدی معہود تسلیم کرتے ہیں۔سائلان کو اپنے ایمان کی کوئی تصدیق عدالت سے مطلوب نہ تھی اور نہ ہی سائلان عدالت سے یہ پوچھنے گئے تھے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے دعوئی میں سچے ہیں یا نعوذ باللہ جھوٹے ؟ اسی طرح سائلان کو عدالت کے ایمان اور اعتقاد کے بارہ میں بھی کوئی شبہ نہیں تھا۔سائلان خوب واقف تھے کہ عدالت کے جملہ ارکان حضرت مرزا صاحب کے انکار کو باعث فخر سمجھتے ہیں سائلان اس بات سے بھی خوب آگاہ تھے کہ جملہ ممبران عدالت حضرت مرزا صاحب کے انکار اور تکفیر کا حلف اٹھا کر ہی عدالت کے منصب بالا تک پہنچے ہیں۔لہذا نہ تو سائلان کا منشاء عدالت سے حضرت مرزا صاحب کے دعاوی پر کوئی فیصلہ حاصل کرنا تھا اور نہ قانون کی رو سے عدالت کو کوئی ایسا اختیار حاصل تھا۔اسی طرح سے سائلان کی درخواست کے فیصلہ کے لئے یہ بات قطعا غیر متعلق تھی کہ آیا احمدی مسلمان ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ اگر عدالت احمدیوں کے عقائد سے پوری طرح مطمئن ہو بھی جاتی تو بھی 1974 ء کی ترمیم کو غلط اور کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔لہذام و غیر مسلم کی بحث قطعاً غیر متعلق تھی اور جیسا کہ عدالت کے فیصلہ کے صفحہ 8 پر درج ہے۔سائلان کی طرف سے یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ وہ یہ سوال اٹھانا نہیں چاہتے کہ آیا قادیانی مسلمان ہیں یا غیر مسلم؟ سائلان نے یہ واضح اور دوٹوک موقف اس لئے اختیار کیا تھا کہ آرٹیکل نمبر 203 کی عائد کردہ پابندی کی وجہ سے عدالت دستوری ترمیم پر کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہ رکھتی تھی نیز کوئی بھی عدالت ایمانیات اور اعتقادات کے بارہ میں فیصلہ صادر کرنے 206