امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 205 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 205

سائلان کے علاوہ پاکستان کے شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے ہیں۔مذکورہ حصہ جات زیر بحث آرڈینینس کے جواز یا بطلان کے تصفیہ کے لئے کسی طرح بھی متعلق اور ضروری نہ تھے۔5۔یہ کہ وفاقی شرعی عدالت نے ایک فریق مقدمہ کے خلاف غیر متعلق، غیر ضروری، غیر ثقہ، مذہبی تعصب پر مبنی اور دلآزار اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا مواد ناروا طور پر فیصلہ میں شامل کیا اور اس کی تشہیر کا باعث بنی۔اور ایک عدالتی فیصلہ کے لبادہ میں ایک فریق مقدمہ کے نقطۂ نظر کو یکطرفہ طور پر شائع کرنے کا موقع بہم پہنچایا جو عدالتی منصب اور طریق کار کے بے جا استعمال کے مترادف ہے۔لہذا فیصلہ کے مذکورہ حصہ جات اس قابل ہیں کہ انہیں فیصلہ سے حذف کئے جانے کا حکم صادر فرمایا جائے۔یہ کہ عدالت کے مفصل فیصلہ کے وہ حصہ جات جو حذف کئے جانے کے لائق ہیں اور جو فیصلہ کے صفحات سے لے کر 152 تک پھیلے ہوئے ہیں۔ان کی تفصیل اور ان کے حذف کئے جانے کی وجوہات درج ذیل ہیں :۔وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ کا ایک حصہ حضرت مرزا صاحب کی ذات ، آپ کے دعاوی اور آپ کی پیشگوئیوں پر تبصرہ کرنے میں صرف کیا، حالانکہ وفاقی شرعی عدالت کے سامنے زیر غور سوال صرف یہ تھا کہ آیا قادیانی آرڈنینس ( مجریہ 1984ء) خلاف قرآن وسنت ہے یا نہیں؟ سائلان کی طرف سے مفصل بحث اسی نقطۂ نگاہ سے کی گئی تھی کہ زیر نظر آرڈنینس کس طرح قرآن وسنت کے واضح احکام اور اصولوں سے متصادم ہے۔آرٹیکل D-203 کی حدود کے اندر رہتے ہوئے عدالت صرف اس امر کا فیصلہ کرنے کی پابند تھی کہ آیا آرڈینینس فی الواقعہ قرآن وسنت کے خلاف ہے یا نہیں ؟ کسی فریق کے عقائد 205