امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 15
کرنے کی اجازت دی جائے مگر عدالت نے کہا کہ ٹیپ ریکارڈ عدالت خود کرے گی اور ہمیں ٹیپ ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں۔دوسرے یا تیسرے دن کا ذکر ہے کہ خاکسار نے عدالت کو توجہ دلائی کہ عدالت کی کارروائی اخبارات میں شائع نہیں ہو رہی اور وہ روک دی گئی ہے اور یوں ہمارا نقطۂ نظر عوام الناس تک نہیں پہنچ رہا۔عدالت کا جواب یہ تھا کہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے عوام نے نہیں۔چنانچہ عدالت کی کارروائی شائع ہونے سے روک دی گئی۔میہ ایک رویہ بن گیا ہے کہ جماعت کے خلاف کارروائی میں تاثر تو یہ دیا جائے کہ جماعت کو پورا موقع دیا گیا مگر کاروائی یکطرفہ طور پر کر دی جائے۔یہی کچھ شرعی عدالت میں ہوا۔جو ہم نے کہا، جو دلائل ہم نے دیئے ، جو حوالے ہم نے دیئے ان سے جو استنباط کئے وہ تو عوام کے سامنے نہ آئے۔عدالت کی طرف سے قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہ دی گئی اور یکطرفہ طور پر جماعت کے خلاف زہر یلا مواد عدالت کے فیصلہ میں داخل کر دیا گیا۔عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرنے میں بحث کرتے ہوئے خاکسار نے تین حصار قائم کئے اور گزارش کی کہ ساری بحث ان حدود کے اندر ہوگی۔ہم بھی اس کی پابندی کریں گے اور عدالت بھی اس کی پابند ہے۔پہلا حصار ہم نے یہ قائم کیا کہ شروع ہی میں یہ بات عدالت پر واضح کر دی کہ ہم آئینی ترمیم کو زیر بحث نہیں لانا چاہتے۔یہ عدالت آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی مجاز نہیں ہے۔ہم بھی اس بات کو زیر بحث نہیں لائیں گے۔ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے علی الرغم ،میر امذ ہب کچھ بھی ہو ، آرڈینینس کی عائد کردہ پابندیوں کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں لیا جانا چاہئے۔اور جو درخواست داخل کی گئی ہے اسے ہم ایک مذہبی فریضہ کے طور پر ملک وملت کی خیر خواہی کے جذبہ سے ادا کر رہے ہیں۔کیونکہ جو قانون قرآن وسنت کے منافی ہوا سے ملکی قانون کا حصہ نہیں ہونا چاہئے اور کا اعدم قرار د ید یا جانا چاہئے تا کہ قوم کی 15