امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 201
یہ بات قابل ذکر ہے کہ عدالت نے کم و بیش ہمارے تمام دلائل کا احاطہ کیا اور دلائل کا لب لباب اور مختصر مفہوم بھی اپنے الفاظ میں اپنے فیصلہ میں بیان کیا ہے اور تقریباً تمام دلائل کو تسلیم کیا ہے۔کسی دلیل کو تو ڑا نہیں گیا اور جو فیصلہ دیا گیا اس میں الاماشاء اللہ کسی قرآنی آیت سے استدلال نہیں کیا گیا۔مختصر فیصلہ اور تفصیلی فیصلہ کو یکجائی طور پر پڑھا جائے تو صورت حال یوں ابھرتی ہے کہ مختصر فیصلہ میں یہ قرار دیا کہ احمدی اس بارہ میں آزاد ہیں کہ مرزا غلام احمد مسیح موعود اور مہدی موعود کے طور پر اپنے ایمان کا اظہار کریں۔وہ اس بات میں آزاد ہیں کہ وہ اپنی عبادات من جملہ دیگر اپنی عبادتگاہوں میں اپنے مذہب کے مطابق ادا کریں۔اور تفصیلی فیصلہ میں ہمارے چھ سوالات میں سے چار کا جواب اثبات میں دے کر ہمارا یہ حق بھی تسلیم کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن پر بطور مکمل ضابطہ حیات ، ایمان رکھیں اور ا اس کے مطابق عمل کریں۔رہ گئی اذان اور مسجد کے نام کے استعمال پر پابندی تو اس کی واحد دلیل یہ دی گئی کہ وہ آئینی ترمیم کو مؤثر کرنے کے لئے کی گئی ہے۔یہ قرآن وسنت کے مطابق ہے یا نہیں ، یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے۔201