امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 200
تصورات پر اسلام کی برتری ظاہر کر سکے۔دراصل قرآن نہ صرف افراد کے درمیان آزادانہ تبادلہ خیال کی اجازت دیتا ہے بلکہ مسلمانوں سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ وہ غیر مسلموں کو چیلنج کریں کہ وہ اپنے عقیدے کے حق میں دلائل پیش کریں جیسا کہ هَا تُوْا بُرْهَانَكُمْ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔جو غیر مسلموں کے دلیل پیش کرنے کی عاجزی پر دلالت کرتا ہے“۔وو آگے چل کر عدالت نے ہماری پیش کردہ آیات کے حوالہ سے لکھا: یہ آیات اور تفاسیر بھی غیر مسلموں کے مسلمانوں کے درمیان سے اپنے مذہب کی تبلیغ کے بنیادی حق کو جائز قرار دینے کیلئے کافی نہیں ہے۔بایں ہمہ اسلامی ریاست غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دے سکتی ہے، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت کیا گیا۔لیکن یہ اجازت اسی وقت دی جاسکتی ہے جب غیر مسلم کی حیثیت سے تبلیغ کرے، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے نہیں۔قانون ساز ادارے دوسری شرائط بھی عائد کر سکتے ہیں“۔اور آخری نتیجہ یہ نکالا : د مسلمانوں کے متفقہ مطالبے کے نتیجے میں جو قرار داد منظور کی گئی اس کے نتیجے میں ی ممکن نہیں تھا کہ قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا اپنے تصویر اسلام کی تبلیغ کرنے کی اجازت دی جائے۔مگر انہوں نے آئینی ترمیم کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنے مذہب کو اسلام کہتے رہے اور وہ آزادانہ طور پر کتب و رسائل کے ذریعے اور انفرادی طور پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے رہے۔جس سے واضح طور پر امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کے امکان تھے۔اور یہ صورتحال موجودہ ordinance کے نافذ ہونے تک جاری رہی۔ان حالات میں یہ ordinance آئین کی دفعہ 20 کے استثناء کے ذیل میں آتا ہے کیونکہ 20 Article امنِ عامہ کے تابع ہے۔“ 200