امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 199
مسٹر مجیب الرحمن نے مختلف مفسرین کی آراء اس بات کی تائید میں پیش کیں کہ اس آیت میں بیان کردہ شعار مشرکین کے شعار بھی تھے۔لیکن مسٹر ریاض الحسن گیلانی نے اس کے برخلاف آراء پر انحصار کیا۔پیر محمد کرم شاہ جو کہ اب سپریم کورٹ میں شریعت بینچ کے جج ہیں کی مشہور تفسیر میں بیان کردہ رائے مسٹر مجیب الرحمن کے حق میں ہے۔اس کے بعد عدالت نے کوئی رائے نہیں دی کہ عدالت کیلئے کونسی رائے قابل قبول ہے۔عدالت نے اس بات پر بھی کوئی رائے دینا مناسب نہ سمجھا کہ آیت کے منسوخ ہونے یا نہ ہونے کا ہمارے مؤقف اور استدلال پر کیا اثر تھا۔اس کے بعد تبلیغ کے بارے میں عدالت کے فیصلے کا درج ذیل حصہ دلچسپی سے خالی نہیں جس میں خاکسار کی بحث ذکر کرتے ہوئے عدالت نے لکھا: ”انہوں نے ان آیات کے ضمن میں متعدد تفاسیر کے حوالے بھی دیئے۔ان کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان آیات کے معنی بالکل واضح ہیں یعنی کہ مسلمان مشرکوں اور غیر مسلموں کو اس بات کی دعوت دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے عقائد کے بارے میں دلائل پیش کریں۔لیکن مسٹر مجیب الرحمن کی دلیل یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق مل جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے مذہب میں شامل کرے۔ہم اس بات کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔یہ تمام آیات تبلیغ اور اسلام کے پھیلانے سے اور ان ذرائع سے تعلق رکھتی ہیں جو تبلیغ کیلئے استعمال کئے جائیں۔اصول یہ ہے کہ تبلیغ اسلام کرتے ہوئے غیر مسلموں سے گفتگو کرتے ہوئے شائستگی اور نرمی سے کام لیا جائے اور نہ صرف یہ کہ منطقی اور عقلی طور پر محاسن بیان کئے جائیں بلکہ غیر مسلم کو بھی یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے مذہب کے محاسن بیان کرے۔یہ ضروری ہے کہ غیر مسلم اپنے مذہب کے بارے میں نقطئہ نظر کو سادگی سے پیش کرے تاکہ مسلمان اس کا جواب دے سکے اور دوسرے مذہب کے فلسفے اور 199