امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 197
4۔کیا کسی غیر مسلم کو اس بات کی اجازت ہے یا نہیں کہ اگر وہ چاہے تو قرآن کی تعلیمات پر عمل کرے۔5۔اگر چوتھے سوال کا جواب نفی میں ہو تو قرآن وسنت میں وہ نفی کرنے والی آیت کونسی ہے۔6۔اسلام ایسے شخص کے لئے کیا لائحہ عمل تجویز یا مہیا کرتا ہے جسے مسلمان تصور نہ کیا جائے اور تصور کئے جانے کا حق نہ ہو اور وہ اللہ کی وحدانیت، قرآن کی حقانیت اور رسول کریم ﷺ کی رسالت کا اقرار کرتا ہو۔ان سوالات کا جواب عدالت نے صفحہ 93 پر یوں دیا۔"مسٹر مجیب الرحمن کے اُٹھائے ہوئے پہلے چار سوالات کا جواب تو اثبات میں ہی دیا جاسکتا ہے۔آئین ، قانون اور شریعت میں کسی غیر مسلم پر اس بات کی کوئی پابندی نہیں کہ وہ اللہ کی وحدانیت کا اعلان کرے، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دعوئی میں سچا تسلیم کرے۔قرآن کو ایک اچھے نظام حیات کے طور پر قابل عمل تسلیم کرے۔پہلے چار سوالوں کو کے نتیجے میں پانچواں سوال پیدا نہیں ہوتا۔“ گو چھٹے سوال کا جواب عدالت نے یہ دیا کہ ایسے غیر مسلم کے ساتھ قرآن وسنت کی عائد کردہ شرائط کے تحت دوسری اقلیتوں کی طرح سلوک کیا جائے گا جس کا ہم مناسب مقام پر جائزہ لیں گے۔“ آزادی مذہب کے بارے میں عدالت نے میرے معروضات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا اسلام مکمل مذہبی رواداری کی تعلیم دیتا ہے اور اس بات کو انسان کے ضمیر پر چھوڑتا ہے کہ وہ اسلام کو بطور مذہب قبول کرے یا نہ کرے، کسی جبر کی اجازت نہیں“۔197