امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 196
معاہدات کا اثر جن میں تبلیغ سمیت مکمل مذہبی آزادی کی یقین دہانی موجود تھی۔پہلے نقطے پر میرے استدلال کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے لکھا کہ : عدالت محمد ریاض وغیرہ بنام فیڈرل گورنمنٹ کے مقدمہ میں یہ قرار دے چکی ہے کہ پبلک لاء کے معاملے میں عدالت تقلید کے اصول کی پابند نہیں۔یہ بات مسٹر مجیب الرحمن کے اندیشے رفع کرنے کیلئے کافی ہے۔قرآن فہمی اور اُصول تفسیر کے بارے میں جو اُصول میں نے قائم کئے تھے ان کے بارے میں عدالت نے یہ لکھا وو ان اُصولوں پر کوئی اختلاف نہیں۔اپنی بحث کے دوران مسٹر مجیب الرحمن نے ہماری توجه قرآن شریف کی متعدد آیات کی طرف مبذول کروائی تھی جس کے مطابق کسی آیت کا مفہوم صرف شان نزول تک محدود نہیں ہوتا بلکہ حکیم عام ہوتا ہے۔جو چھ سوال ہم نے عدالت کو پیش کئے تھے ان کا ذکر مطبوعہ فیصلہ کے صفحہ 89 پر کیا گیا ہے، عدالت نے لکھا:۔چوتھے نقطہ پر جس میں مذہب کے اظہار اور عمل پر آزادی کا تعلق ہے مسٹر مجیب الرحمن نے چھ سوال کئے تھے۔“ 1 - " کیا اسلام کسی غیر مسلم کو یہ حق یا اجازت دیتا ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کا اظہار کرے۔2۔کیا اسلام کسی غیر مسلم کو یہ حق یا اجازت دیتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دعوئی میں سچا تسلیم کرے۔3۔کیا اسلام کسی غیر مسلم کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ قرآن کو ایک بہتر نظام حیات کے طور پر قابل عمل تسلیم کرے اور اس کی پابندی کرے 196